روس: پارلیمانی انتخابات میں پیوٹن کی جماعت یونائیٹڈ رشیا کو واضح برتری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حکمران جماعت یونائیٹڈ رشیا ملک کے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت برقرار رکھنے کی جانب گامزن ہے، سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ مخالف کسی جماعت کو وفاقی پارٹی لسٹ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ ووٹنگ ایوانِ زیریں، اسٹیٹ ڈوما، کی تمام نشستوں کے انتخاب کے لیے کرائی گئی، اور 2022 میں ماسکو کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد یہ روس میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔
انتخابات سے چند ہفتے قبل روس کی سپریم کورٹ نے جنگ مخالف جماعت یابلُوکو کو پارٹی لسٹ کے انتخاب سے خارج کردیا تھا۔ تاہم اس جماعت کے امیدوار بعض واحد رکنی حلقوں میں انتخاب لڑتے رہے۔
روس کے زیر کنٹرول یوکرینی علاقوں میں بھی ووٹنگ کرائی گئی، جسے یوکرین نے مسترد کرتے ہوئےغیر قانونی قرار دیا، بعض مغربی حکومتوں نے بھی اس اقدام کی مذمت کی۔
صدر پیوٹن نے روسی شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں، انہوں نے ووٹنگ کو ماسکو کی فوجیوں کے لیے حمایت کے اظہار اور ’روس کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے جواب‘ قرار دیا۔
روس میں پیوٹن کے اہم سیاسی مخالفین ملک چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں، جبکہ ان کے نمایاں حریف الیکسی ناوالنی 2024 میں آرکٹک کی ایک جیل میں انتقال کر گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 2700 روپے سستا
ناوالنی کی بیوہ یولیا ناوالنایا نے جنگ مخالف روسیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اتوار کو دوپہر کے وقت اجتماعی طور پر ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز پہنچیں، یہی حکمت عملی 2024 کے صدارتی انتخابات کے دوران بھی اختیار کی گئی تھی۔
انتخابات کے آخری روز اتوار کو یوکرین نے ماسکو اور اس کے گردونواح پر ڈرونز کی بڑی لہر سے حملے کیے، روسی حکام کے مطابق حملوں میں 2 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی۔
روسی وزارت دفاع نے یوکرین پر روسی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کی جانب سے کیف پر حملوں میں ’شدت‘ لائی جائے گی۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق روسی فوج یوکرین کے حملوں کے جواب میں کیف میں فوجی اہداف کے خلاف اعلیٰ درستگی والے حملے جاری رکھے گی اور ان میں شدت لائے گی۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق یوکرین کی جانب سے تقریباً 1,600 ڈرونز استعمال کیے گئے، جن میں سے 450 کا رخ براہِ راست دارالحکومت ماسکو کی جانب تھا، ان کے مطابق یہ جنگ کے آغاز کے بعد ماسکو پر ہونے والا سب سے بڑا ڈرون حملہ تھا۔
مزید پڑھیں:پشاور بورڈ : انٹرپارٹ ون اور ٹو کے نتائج کا اعلان
حملوں کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں دارالحکومت کے مضافات میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت میں بڑا شگاف دکھائی دیا، جبکہ ایک اور مقام سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے نظر آئے، جسے آئل ریفائنری بتایا گیا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوابی حملوں نے ماسکو کے علاقے میں ’بہت نمایاں اثر‘ ڈالا ہے۔