اسرائیل اور امریکہ نے ایک بار پھر نظنز کے نیوکلئیر کمپلیکس پر حملہ کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایران نے آج کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایک بار پھر نظنز کے نیوکلئیر کمپلیکس پر حملہ کیا ہے۔
ایران کے امریکہ اور اسرائیل کے نطنز نیوکلئیر کمپلیکن پرحملے کےدعوے پر اسرائیل نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
آج ہفتے کے روز اسرائیل کی فوج کی طرف سے اسرائیلی میڈیا کو بتایا گیا کہ وہ نطنز کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے سے آگاہ نہیں ہیں۔
آج ایران کے سرکاری میڈیا اور ایٹمی توانائی کی تنظیم نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران میں نطنز یورینیم افزودگی کی تنصیبات پر حملہ کیا۔ ان تنصیبات پر گزشتہ سال پہلے اسرائیل نے اپنی 12 روزہ جنگ کے دوران حملے کئے تھے، اس کے بعد امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ایران کی جن تین چار نیوکلئیر سائیٹس پر بی ٹو طیاروں سے بنکر بسٹر بم گروائے تھے ان میں نطنز کا نیوکلئیر کمپلیکس بھی شامل تھا۔ تب صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ بی ٹو طیاروں کی بمباری سے نظنز کی زیر زمین لیبارٹریاں تباہ ہو گئی ہیں اور نا قابل استعمال ہو گئی ہیں۔ اندر جانے کے راستے بمباری سے بند ہو گئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نطنز لیبارٹریوں کے اندر یا کسی محفوظ سٹور میں 972 پاؤنڈ انتہائی درجہ تک انریچ کی جا چکی یورینیم موجود ہے جسے کچھ ہفتوں کی مزید محنت سے بم گریڈ مواد میں ٹرانسفارم کیا جا سکتا ہے۔
آج ہی امریکی میڈیا میں یہ ڈسکس کیا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے نیوکلئیر مواد کو نکال کر لے جانے کے لئے ایران مین فوج بھیجنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور آج ہی تہران سے یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے نطنز تنصیبات پر حملہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی پر علی الصبح تین بیلسٹک میزائلوں اور 8 ڈرونز کے حملے، سب ناکام ہوگئے
اس سے پہلے ایران نے احتجاج کیا تھا کہ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے دوران ہی ایک میزائل بوشہر نیوکلئیر تنصیبات کے کمپلیکس کے احاطے میں گرا تھا۔ اس پر روس نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا، کیونکہ اس نیوکلئیر کمپلیکس میں سینکڑوں روسی ایکسپرٹ بھی کام کر رہے تھے۔
ایران کے نیوکلئیر انرجی کے ادارہ AEOI نے، جو حکومتی ادارہ ہے، ملک کی جوہری تنصیبات کو چلاتا ہے اور اس کی نگرانی کرتا ہے، کہا کہ اس علاقے میں حملے کے بعد میں کسی تابکار رساو کا پتہ نہیں چلا۔ مزید برآں، مبینہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
AEOI کے مطابق، آج ہونے والے حملے کا نشانہ نطنز میں" شاہد احمدی-روشن افزودگی کمپلیکس" تھا۔
صبح امروز(یکم فروردین ۱۴۰۵)، مجتمع #غنی_سازی شهید احمدیروشن نطنز هدف حمله مجدد دشمن آمریکایی–صهیونیستی قرار گرفت؛ اقدامی مغایر با قوانین و تعهدات بینالمللی از جمله NPT.
— Atomic Energy Organization Of Iran (@aeoi_ir) March 21, 2026
بررسیهای فنی نشان میدهد هیچگونه نشت مواد پرتوزا رخ نداده و خطری متوجه ساکنان مناطق اطراف نیست.
ایرانی ادارہ نے دعویٰ کیا کہ "یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ "تکنیکی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی تابکار مواد کا رساو نہیں ہوا ہے اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔"
AEOI نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور بین الاقوامی برادری سے اس حملے کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔
"بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور بین الاقوامی برادری ایران کی پرامن ایٹمی تنصیبات پر حملے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں اور قوانین کی خلاف ورزی پر واضح، مضبوط اور بین الاقوامی قانون پر مبنی موقف کیوں نہیں اپناتی؟" ایرانی نیوکلئیر انرجی ایجنسی نے X پر لکھا۔
مزید برآں، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بعد میں اس حملے کو "بین الاقوامی قوانین کی ڈھٹائی کی خلاف ورزی" قرار دیا۔
انہوں نے لکھا، "عالمی برادری ان غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے بارے میں فوری طور پر ایک معروضی اور غیر سمجھوتہ کرنے والی تشخیص فراہم کرنے کی پابند ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: امریکہ ایران میں فوج بھیجنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، امریکی نیوز آؤٹ لیٹ کا انکشاف
اس سے قبل جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں زور دے کر کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں "ہم اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب پہنچ رہے ہیں"۔ صدر نے جن مقاصد کو درج کیا ان میں سے "ایران کو کبھی بھی جوہری صلاحیت کے قریب پہنچنے کی اجازت نہیں دینا" تھا۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے میں ایران کے سفیر کے مطابق، اسلامی جمہوریہ کے خلاف کارروائیوں کے پہلے دنوں کے دوران، 2 مارچ کو کمپلیکس کے خلاف پہلے کی گئی ایک ائیر سٹرائیک کی اطلاع ملی تھی۔
رضا نجفی نے اس وقت انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے 35 ملکی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ "انہوں نے کل ایک بار پھر ایران کی پرامن، محفوظ جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔"
اسرائیل کے اخبار دی یروشلم پوسٹ نے رپورٹ میں لکھا کہ نظنز tanza پر مبینہ حملے اس وقت ہوئے جب اسرائیلی طیارے ایرانی فضائی حدود میں کام کر رہے تھے۔
آئی ڈی ایف نے کہا، "عملے نے آپریشنل طریقہ کار کے مطابق کام کیا۔ طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اور مشن منصوبہ بندی کے مطابق مکمل ہوا۔"