غزہ پر اسرائیل کے ٹارگٹڈ حملوں میں حماس کے تین کارکن مارے گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) اسرائیل کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ "غزہ پر حملوں میں حماس کے 3 کارندے ہلاک کئے گئے ہیں جن میں 7 اکتوبر کے حملے میں ملوث دو دہشت گرد بھی شامل ہیں۔"
آج اتوار کے روز اسرائیلی فوج اور ’شین بیٹ‘ (Shin Bet) سیکیورٹی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حالیہ حملوں کے دوران حماس کے دو ایسے کارکن مارے گئے جنہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران اسرائیل میں دراندازی کی تھی، جبکہ ان کے ساتھ حماس کی ایلیٹ ’نخبہ فورس‘ کا ایک اور رکن بھی مارا گیا۔
ہفتے کے روز ہونے والے ایک حملے میں یحییٰ حمدونہ مارا گیا آئی ڈی ایف اور شین بیٹ نے بتایا کہ اس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں دراندازی کی تھی
یہ بھی پڑھیئے: ماسکو پر یوکرینی ڈرونوں کی بارش
اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے ایک الگ حملے میں محمد رفاعی اور بصیر البرش ہلاک ہوئے۔ محمد رفاعی حماس کی ’درج-تفاح بٹالین‘ کا رکن تھا اور اس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل میں دراندازی کی تھی، جبکہ بصیر البرش ’نخبہ‘ فورس کا کمانڈر تھا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا, "یہ تینوں دہشت گرد اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں پر حملوں کو آگے بڑھا رہے تھے اور حماس کی صلاحیتوں کو بحال کرنے کے لیے کوشاں تھے، جو کہ "جنگ بندی کی منظم خلاف ورزی" کے مترادف تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ انہیں "خطرے کو ختم کرنے" کے لیے ہلاک کیا گیا۔"