وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت اجلاس، نئے سکول مکمل ہوتے ہی داخلہ مہم شروع کرنے کی ہدایت

Sep 20, 2026 | 11:47:AM
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت اجلاس، نئے سکول مکمل ہوتے ہی داخلہ مہم شروع کرنے کی ہدایت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(آزاد نہڑیو)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں 838 نئے اور ازسرنو تعمیر شدہ سکول تکمیل کے قریب ہیں، ان سکولوں کی تکمیل کے ساتھ ہی داخلہ مہم شروع کی جائے اور ہر مکمل سکول کو پہلے ہی تعلیمی سال سے فعال بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں تعلیمی انتظامی اداروں سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم شاہ، سیکرٹری سکول ایجوکیشن زاہد عباسی، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد ضامن، پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس ایس ای آئی پی رضوان سومرو اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے میں جاری سکولوں کے تعمیر، بحالی اور اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،بتایا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے سندھ میں 838 سکول تعمیر، اپ گریڈ یا بحال کیے جا رہے ہیں،ان میں اصل ایس ایس ای آئی پی منصوبے کے تحت 116 نئے سیکنڈری سکول جبکہ سیلاب بحالی پروگرام کے تحت 722 موسمیاتی اثرات سے محفوظ سکول شامل ہیں۔

بریفنگ کے مطابق اصل ایس ایس ای آئی پی منصوبے کے تحت 64 اسکول دسمبر 2026 تک مکمل ہوجائیں گے جبکہ باقی 52 اسکول جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،اس طرح منصوبے کے تحت کل 116 اسکول مکمل ہوں گے، سیلاب بحالی منصوبے کے تحت پانچ اضلاع میں 722 تباہ شدہ اسکول دوبارہ تعمیر کیے جا رہے ہیں، جنہیں موسمیاتی اثرات سے محفوظ ڈیزائن کے تحت اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ دسمبر 2026 تک مجموعی طور پر 257 اسکول مکمل ہوجائیں گے جبکہ جون 2027 تک مکمل ہونے والے سکولوں کی تعداد 611 تک پہنچ جائے گی، باقی سکولوں کی تکمیل 2027 کے اختتام تک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دینہ: بچوں کا قاتل باپ پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ سکولوں کی تکمیل سے پہلے ضلع وار داخلہ منصوبے تیار کیے جائیں اور نئے یا دوبارہ تعمیر شدہ سکول مکمل ہوتے ہی داخلہ مہم شروع کی جائے،انہوں نے کہا کہ تعلیمی منصوبوں کی کامیابی صرف عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے اور انہیں تعلیم سے جوڑنے سے ہوگی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ نئے سکولوں سے تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں کے لیے تعلیمی مواقع پیدا ہوں گے جبکہ سیلاب متاثرہ اضلاع میں دو لاکھ 21 ہزار سے زائد بچوں کو سکولوں میں داخل کیا جائے گا،نئے اپ گریڈ شدہ سیکنڈری اسکولوں میں 28 ہزار سے زائد بچوں کو داخلہ دینے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بلدیاتی نمائندوں، مقامی رہنماؤں اور والدین کو داخلہ مہم میں شامل کیا جائے اور سکولوں کے اطراف رہنے والے ہر بچے کو سکول میں داخل کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، انہوں نے کمیونٹی سطح پر اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی اور ان کے خاندانوں سے رابطے کی بھی ہدایت کی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر سکول میں داخلہ، طلبہ کو برقرار رکھنے اور تعلیمی نتائج کے قابل پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں، ہر سکول کی تکمیل سے پہلے اسے فعال کرنے کا جامع منصوبہ بھی پیش کیا جائے،انہوں نے کہا کہ ہر مکمل اسکول فعال ہونا چاہیے اور کسی بچے کو تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے اسکولوں میں سائنس اور کمپیوٹر لیبارٹریاں، ڈیجیٹل لائبریریاں اور شمسی توانائی کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ لڑکیوں کے لیے کامن رومز سمیت طلبہ دوست سہولیات بھی دستیاب ہوں گی،سینکڑوں سیلاب متاثرہ اسکولوں کو ایلیمنٹری اور سیکنڈری سطح تک اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں:صوبے کو صاف، سرسبز اور اہلِ پنجاب کو صحت مند بنانا اولین ترجیح ہے:مریم نواز

وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے بتایا کہ اچھے نتائج دینے والے تعلیمی انتظامی اداروں کے ساتھ شراکت داری جاری رکھی جائے گی، ان اداروں کی شراکت سے داخلہ، حاضری اور تعلیمی نتائج بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، 40 سکولوں کے پہلے مرحلے کی خریداری کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ مزید سکول مرحلہ وار تعلیمی انتظامی اداروں کے حوالے کیے جائیں گے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت سندھ کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک معیاری تعلیم پہنچانا چاہتی ہے اور ہر نئے سکول کو پہلے تعلیمی سال سے فعال تعلیمی ادارہ بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔

چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے اجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ آگاہی مہم اور داخلہ مہم میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تعلیمی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو بہتر خواندگی اور مضبوط معاشرے میں تبدیل کرنا ہوگا، نئے سکولوں سے خصوصاً لڑکیوں اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کی تعلیم بہتر ہوگی،انہوں نے کہا کہ سکولوں کے انتظام میں پیشہ ورانہ نگرانی، جوابدہی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے گا اور سکولوں کو سندھ میں تعلیم، خواندگی اور سماجی ترقی کے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔