ایران امریکہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں کل شروع ہوں گے، پاکستان، قطر بھی ساتھ بیٹھیں گے

Jun 20, 2026 | 20:42:PM
  ایران امریکہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں کل شروع ہوں گے، پاکستان، قطر بھی ساتھ بیٹھیں گے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

   (ویب ڈیسک)  امریکہ اور ایران  کے وفود جنگ بندی کے میمورنڈم پر دستخط کے بعد  ٹیکنیکل مذاکرات کے لئے کل اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ میں آمنےسامنے بیٹھیں گے۔
 اسلام آباد مین پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج ہفتہ کے روز بتایا کہ جنیوا میں ہونے والے مزاکرات میں امریکہ اور ایران کے وفود کے ساتھ دو ثالث ملکوں پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی موجود ہوں گے۔

ٹیکنیکل مذاکرات سوئٹزرلینڈکے شہر برگن سٹاک میں ہونے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ میں یہ طے پایا ہے کہ ایران میں موجود ساٹھ فیسد افزودہ یورینیم، ایران کے نیوکلئیر پروگرام اور کئی دوسرے اہم ترین مسائل پر مفصل مذاکرات کی ضرورت ہے۔ یہ مذاکرات  ایم او یو پر دستخط ہونے کے دن سےساٹھ دن میں مکمل ہونا طے ہے۔

ٹیکنیکل مذاکرات میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر  وٹکوف اور اور صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندہ جیرڈ  کوشنر  برگن سٹاک پہنچ چکے ہیں۔ ایران سے غالباً وزیر خارجہ عباس عراقچی ایرانی وفد ک یقیادت کریں گے۔

پاکستان کا ثالث کا کردار؛ مقاصد اور اہداف

اسلام آباد میں پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج بتایا کہ پاکستان ثالث کی حیثیت سے مذاکراتی عمل میں فریقین کو سہولت فراہم کرتا رہےگا۔ پاکستان کا مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے مفاہمت کو آگے بڑھانا ہے،  پاکستان امن عمل میں ثالثی کےکردار کو جاری رکھےگا۔

 چیزیں ٹھیک جا رہی ہیں: جے ڈی وینس 
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے آج بتایا کہ   ایران سے مذاکرات کل متوقع ہیں، ایران سے مذاکرات کے لیے چیزیں ٹھیک جا رہی ہیں۔ جے ڈی وینس نے بتایا کہ میرا شاید آئندہ دو روز میں سوئٹزرلینڈ جانا متوقع ہے، وٹکوف اور کُشنر ایران سے مذاکرات کے لیے وہاں موجود ہیں۔

تہران ایم او یو پر عملدرآمد کا مطالبہ کرےگا

تہران میں ایران کی  وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ہفتہ کی شام بتایا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کچھ دیر بعد سوئٹزرلینڈکے لیے روانہ ہوجائےگی۔

اسمعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی وفد مفاہمتی یادداشت کی پیروی اور اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کرے گا۔

اسماعیل بقائی  نے بتایا کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں پرعمل کیا ہے، امریکا پابند ہےکہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملے بند کرنے پر مجبورکرے، اگلے فریق نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی تو سمجھوتہ خطرے میں پڑجائےگا، اگلےفریق کو جلدازجلد ضروری اقدامات کرنا ہوں گے، اگلےفریق نے اپنے وعدوں کی پاسداری سے انکار کیا تو ایران جوابی اقدامات کرےگا۔ 

یہ بھی پڑھیں:  لبنان میں جنگ بندی ٹوٹ گئی، اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے 27 افراد جاں بحق