عباسی شہید اسپتال کے ہاؤس افسران کے بقایا جات دو ماہ میں ادا کرنے کا حکم

Jun 20, 2026 | 15:01:PM
 عباسی شہید اسپتال کے ہاؤس افسران کے بقایا جات دو ماہ میں ادا کرنے کا حکم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچ نے عباسی شہید اسپتال کے ہاؤس افسران کے تمام بقایا جات دو ماہ میں ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
 سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے عباسی شہید اسپتال کےینگ ڈاکٹرز کے وظائف کی عدم ادائیگی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت نے ڈاکٹرز کی دائر درخواست منظور کر لی اور کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کو سخت ہدایت جاری کردی کہ وہ اگلے 2 ماہ کے اندر اندر تمام متاثرہ ہاؤس افسران کے تمام بقایاجات لازمی ادا کرے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ہاؤس افسران کو ان کے ماہانہ وظیفے کی بروقت ادائیگی کرنا یونیورسٹی انتظامیہ کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار ڈاکٹرز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بغیر کسی معقول وجہ کے نوجوان ڈاکٹرز کو ان کے جائز ماہانہ وظیفے سے محروم رکھا گیا تھا اور عدالتی مداخلت پر صرف جزوی ادائیگی کی گئی جبکہ بقیہ رقم روک لی گئی۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت کے منظور شدہ قوانین کے مطابق یہ ہاؤس آفیسرز 69 ہزار 600 روپے ماہانہ وظیفے کے قانونی حقدار ہیں،عدالت نے اس نکتے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نوٹیفکیشن 2022 اور پی ایم ڈی سی ریگولیشنز کے تحت وظیفہ ڈاکٹرز کا قانونی حق ہے اور ایک ہی بیچ کے کچھ افسران کو وظیفہ دینا اور دوسروں کو اس سے محروم رکھنا سراسر امتیازی سلوک ہے۔
آئینی بینچ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس عذر کو یکسر مسترد کر دیا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے ادائیگیاں نہیں ہو سکیں،عدالت کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی فنڈز نہ ملنے کا بہانہ بنا کر رات دن ڈیوٹی کرنے والے ڈاکٹرز کے وظائف ہرگز نہیں روک سکتی، کیونکہ کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی صرف کے ایم سی کے فنڈز پر انحصار نہیں کرتی بلکہ اس کے اپنے ذرائع آمدن بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سولر پلیٹس کی قیمتوں میں بڑی کمی،بیٹریاں بھی سستی ہوگئیں
سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں تنبیہ کی کہ اگر دو ماہ کی مقررہ مدت کے اندر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔