اپوزیشن لیڈرز کے نوٹیفیکیشن خوش آئند، بانی سے ملاقاتیں ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے، بیرسٹر گوہر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(محمد اویس) پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی سے ملاقاتیں ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔بانی سے ان کی تین بہنوں نے ملنا ہے، باقی لوگ یہاں اظہار یکجہتی کیلئے آتے ہیں۔ جب انصاف کے دروازے بند ہو جائیں تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے یہ باتیں اڈیالہ جیل والی سڑک پر ڈی ایچ اے ناکے پر میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا، ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کی کوشش کررہے تھے لیکن وہ مصروف ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی ملاقات کیلئے 3 گھنٹے تک انتظار کررہے تھے۔
سوالات کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا ، عدلیہ سے درخواست ہے لوگوں کو انصاف انکی دہلیز پر ملنا چاہیے۔جب انصاف کے دروازے بند ہوجاتے ہیں تو لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں۔انصاف کی عدم فراہمی پر لوگ لنچنگ اور وار لاڈ کی طرف جاتے ہیں۔ایک سال سے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی۔17 جنوری 2025 کو القادر میں سزا ہوئی ایک سال سے اپیل نہیں لگ رہی۔عدلیہ خدا کیلئے بانی پی ٹی آئی کے کیسز سنیں اور انصاف کریں۔
یہ بھی پڑھیں : پندرہ فروری کرکٹ کی تاریخ کا منفرد دن جب پاکستان اور انڈیا دو مرتبہ ٹکرائیں گے
بیرسٹر گوہر نے کہا، بشری بی بی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں اسکو کیوں سزا دی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہیئے۔
کے پی حکومت کو بھی ایسے کام نہیں کرنے چاہیئے جن پر الزامات لگ جائیں۔ جو الزامات لگاتے ہیں ان سے گزارش ہے ثبوت بھی لائیں۔ آپ کب تک سپرمین اور ونڈر بوائز کے انتظار میں رہیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا، ہمارا فی الوقت اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے کوئی رابطہ نہیں۔ ہم بالکل واضع ہیں اگر کوئی بیک ڈور رابطہ ہوتا ہے تو ہم نہیں چھپائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر منتخب ہو جانے کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس پر اب بڑی ذمہ داری ہے۔ہم سمجھتے ہیں اچکزئی موثر کردار ادا کرینگے۔
انہوں نے کہا، گریبانوں سے ہاتھ نکالنا ہوگا گریبانوں میں ہاتھ ڈال کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہم سب کو اپنی انا ختم کرنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : خودکفالت کی طرف اہم چھلانگ :پاکستان میں تیل اور گیس کے ذخائر کی بھاری مقدار مل گئی
بیرسٹر گوہر سے پی ٹی آئی میں اختلافات کے متعلق سوالات کئے گئے تو انہوں نے کہا، میں پارٹی کے اندرونی معاملات پر عوام میں بات نہیں کرتا۔ تاہم بیرسٹر گوہر نے یہ تسلیم کیا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کچھ اسطرح کی باتیں ہوئیں میں نے اجلاس کو موخر کردیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، میری مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بہتر ہے صلح صفائی ہو۔
انہوں نے کہا، پی ٹی آئی پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ جب بھی ملک کی بات آئی ہم نے بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔
اپوزیشن لیڈرز کے نوٹفکیشن جاری ہونے کو اچھا اقدام سمجھتا ہوں۔ یہ نوٹفکیشنز ایوان اور جمہوریت کیلئے اچھے ہیں۔
دونوں اپوزیشن لیڈرز نے کل اپنی تقاریر میں اچھے پیغامات دئیے۔
یہ بھی پڑھیں : کچے کے 62 ڈاکوؤں نےسرنڈر کر دیا
اپوزیشن کے دو لیڈروں کے نوٹیفی کیشن جاری ہونے مین میاں نواز شریف کے مثبت کردار کے متعلق سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا، میاں نواز شریف اپنی پارٹی کے سربراہ ہیں نوٹفکیشن پر اگر کوئی مشاورت ہوئی ہوگی تو یہ انکا معاملہ ہے۔
میں سپیکر کا مشکور ہوں انہوں نے یہ نوٹفکیشن کردیا۔
میں نہیں سمجھتا اپوزیشن لیڈر کے نوٹفکیشن میں کسی اور کا کوئی کردار ہے۔
پی ٹی آئ یکے چئیرمین نے کہا، حکومت اگر ایک ہاتھ سے ہاتھ ملائے دوسرے ہاتھ سے مکا مارے گی تو حالات بہتر نہیں ہونگے۔ ہم نے حکومت کو کہا دونوں ہاتھ ملائیں تو بات بنے گی۔ حکومت مکے مارے گی تو لوگ پھر احتجاج ہی کرےکریں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، 8 فروری ہمارا سمبالک ڈے ہے اس دن ہمارا مینڈیٹ چوری ہوگیا تھا۔ ہم 8 فروری کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ہمارا احتجاج پرامن ہوگا۔ ہماری اپیل ہے لوگ شٹر ڈاون کریں اور پہیہ جام کریں۔
ای کسوال کے جواب مین بیرسٹر گوہر نے کہا، پی ٹی آئی کا وجود نظر آرہا ہے بانی کو کسی نشان کی ضرورت نہیں۔پی ٹی آئی کا کیس الیکشن کمیشن میں پڑا ہوا ہے ایک سٹے کی وجہ سے التواء میں ہے۔