نوبیل انعام نہیں ملا، اب میں امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں: ٹرمپ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیر اعظم کو ایک سخت پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے گرین لینڈ کے معاملے سے جوڑ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں واضح طور پر لکھا کہ اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ آپ کے ملک نے 8 سے زائد جنگیں رکوانے کے باوجود مجھے نوبیل امن انعام نہ دینے کا فیصلہ کیا، اب میں صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امن ہمیشہ اولین ترجیح رہے گا، لیکن اب میں وہ سوچ سکتا ہوں جو امریکا کے لیے بہتر اور مناسب ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس پیغام میں ڈنمارک کے زیرِ انتظام علاقے گرین لینڈ پر امریکی ملکیت کا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اس خطے کو روس یا چین سے بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
Norway's Prime Minister Jonas Gahr Støre has acknowledged Trump’s letter is real. The letter reportedly ties Norway’s Nobel Peace Prize decision to Greenland, questions Denmark’s “right of ownership,” and states the world isn’t secure unless the U.S. has "Complete Control" pic.twitter.com/a3GAgHG9pV
— ABD Bülteni (@ABD_Bulteni) January 19, 2026
انہوں نے ڈنمارک کے حقِ ملکیت پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ محض سینکڑوں سال پہلے ایک کشتی کے وہاں پہنچنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ امریکی کشتیاں بھی وہاں پہنچتی رہی ہیں۔
انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ جب تک گرین لینڈ پر امریکا کا ‘مکمل اور کلی کنٹرول’ نہیں ہوگا، تب تک دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹویوٹا کی گاڑی 25 لاکھ روپے تک سستی ہو گئی، مگر کیوں؟ وجہ سامنے آ گئی
ناروے کے وزیر اعظم جوناس گاہراسٹورے نے اس پیغام کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نوبیل امن انعام کا فیصلہ ایک خود مختار کمیٹی کرتی ہے جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
یہ سفارتی تنازع ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے ناروے سمیت 8 یورپی ممالک پر بھاری تجارتی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے امریکا اور یورپ کے درمیان ایک نئی تجارتی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔