انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے نیشنل آگاہی فریم ورک تیاری کے آخری مراحل میں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(طیب سیف)جعلی ملازمتوں کے اشتہارات اور سائبر سرگرمیوں کے ذریعے غیر قانونی ہجرت اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے نیشنل آگاہی فریم ورک تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہوگیا۔انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈیویلپمنٹ (ICMPD) کے اشتراک سے اسلام آباد میں 2 روزہ ’’ویلیڈیشن ورکشاپ‘‘ کا انعقاد کیا۔
یہ ورکشاپ جعلی ملازمتوں کے اشتہارات اور سائبر سرگرمیوں کے ذریعے غیر قانونی ہجرت اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام (FJA-PAK) منصوبے کے تحت منعقد کی گئی۔

منصوبہ ناروے کے ڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن کے مالی تعاون سے جاری ہے، جس کا مقصد بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانی شہریوں میں آگاہی پیدا کرنا اور جعلی نوکریوں کے اشتہارات اور آن لائن فراڈ کے خطرات سے بچاؤ یقینی بنانا ہے، ورکشاپ کا مقصد جعلی ملازمتوں کے حوالے سے قومی آگاہی فریم ورک کو حتمی شکل دینا تھا۔
اس موقع پر شرکاء نے عملی سیشنز، تجربات کے تبادلے اور تجاویز کے ذریعے آگاہی اقدامات کے ڈیزائن اور نفاذ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی اور ایک جامع نیشنل آگاہی مہم کے لیے سفارشات پیش کیں۔ورکشاپ کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاقِ رائے سے نیشنل پلان آف ایکشن برائے آگاہی کے خدوخال بھی طے کیے گئے۔

ورکشاپ میں وزارت داخلہ، ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، اسلام آباد پولیس، پیمرا، اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC)، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE)، نیشنل پولیس بیورو (NPB)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، مائیگرنٹ ریسورس سینٹر (MRC) اور نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (PKCERT) کے نمائندگان نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں :نیا وائرس انفلوائزہ ایچ تھری این ٹو ، روزانہ درجنوں کیس رپورٹ ہونے لگے