سول سرونٹس ترمیمی بل 2025ء سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور
تنخواہوں و کم سے کم اجرت میں مزید اضافہ کرنے اور ایف بی آر میں اصلاحات کی تجاویز بھی پیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)سینیٹ اجلاس میں سول سرونٹس ترمیمی بل 2025 متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں ارکان نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، کم سے کم اجرت میں مزید اضافہ کرنے اور ایف بی آر میں اصلاحات کی تجاویز بھی پیش کیں۔
چئیرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ہونے والے سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے سول سرونٹس ترمیمی بل پیش کیا جس کی ایوان نے متفقہ طورپر منظوری دے دی۔
واضح ہے کہ 5 جون کو رانا محمود الحسن کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں سول سرونٹس ترمیمی بل کی منظوری دی گئی تھی،بل میں گریڈ 17 سے بالا سرکاری افسران پر اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
بل کے متن کے مطابق گریڈ17 سے اوپرکے افسران اپنے غیرملکی اثاثے اور واجبات بھی ظاہر کریں گے، سرکاری افسران کو بیوی اور زیر کفالت بچوں کے اثاثے بھی ظاہر کرنا ہوں گے۔
مسودے کے مطابق اثاثوں کی تفصیلات ایف بی آر کو دی جائیں گی جو پبلک ہوں سکیں گی، معلومات عوامی مفاد اورشخصی پرائیویسی کا خیال رکھ کر مشتہر ہوں گی، ذاتی معلومات، شناختی کارڈ نمبر، ایڈریس اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کا تحفظ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سالانہ ایک کروڑروپے سے زیادہ پینشن پر ٹیکس کی تجویز منظور
دوسری جانب سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون نے جب بار کونسل ترمیمی بل پیش کیا تو قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز اور پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ ہنگامی طور پر بل کو منظور کرنے کی ضرورت نہیں،پہلے اس پر قائمہ کمیٹی میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے جس پر بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔
وزیرمملکت داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے فوجداری قوانین ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کیا جسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا، آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ارکان سینیٹ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کم سے کم اجرت میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا۔