عوام کی سوچ اور الیکشن کا نتیجہ مختلف اب نہیں چلے گا،مولانا فضل الرحمان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)جمعیت علما اسلام (جے یو آئی)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امن ہی ہمارا منشور ہے،عوامی مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے ، ووٹ چوری کئے جاتے ہیں ، ہم نے سیاسی تحریک کو جاری رکھا اور صبر کیا ، اگر جے یو آئی نے آواز دی اور پورے ملک سے لوگوں کو بلایا تو اسلام آباد بھی آپ کے قبضے میں ہوگا ، عوامی مینڈیٹ کو ئی ریوڑیاں نہیں کہ آپ سندھ کسی کو دیں اور دیگر صوبے کسی اور کو دیں ، عوام کی سوچ اور الیکشن کا نتیجہ مختلف اب نہیں چلے گا ۔
کراچی میں جمعیت علما اسلام کے تحت سندھ امن مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ سندھ دھرتی کے بھائیوں ، آپ نے چار یا پانچ روز سندھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک عوامی امن مارچ کیا ، آج کراچی کے اس میدان میں تاریخ کا عظیم شان اجتماع منعقد کیا ، میں آپ تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، سندھ جمعیت علما اسلام کو مبارکباد دیتا ہوں ، ان کاکہناتھا کہ یہ امن مارچ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ،اس سے پہلے بھی آپ نے اپنے صوبے میں امن کی آواز بلند کی ، آج بھی آپ عوام کی آواز ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کاکہناتھا کہ کے پی کے میں جہاں امن نام کی کوئی چیز نہیں ، اس محاذ پر بھی جے یو آئی عوام کی آواز بنی اور ملین مارچ کیا ، بلوچستان میں بدامنی کا راج ہے ، لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کردیا جاتا ہے ، بیس سال پہلے کوئٹہ کے میزان چوک پر جے یو آئی نے بلند کی ، جے یو آئی امن کا پرچار کررہی ہے ۔
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ امن ہی ہمارا منشور ہے،عوامی مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے ، ووٹ چوری کئے جاتے ہیں ، ہم نے سیاسی تحریک کو جاری رکھا اور صبر کیا ، اگر جے یو آئی نے آواز دی اور پورے ملک سے لوگوں کو بلایا تو اسلام آباد بھی آپ کے قبضے میں ہوگا ، عوامی مینڈیٹ کو ئی ریوڑیاں نہیں کہ آپ سندھ کسی کو دیں اور دیگر صوبے کسی اور کو دیں ، عوام کی سوچ اور الیکشن کا نتیجہ مختلف اب نہیں چلے گا ، پاکستانی کا دل امن کا متراشی ہے ، جے یو آئی نے محبت کو فروغ دیا ہے ، ہم نے سب صوبوں میں عوام اور بچوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
مولانا فضل الرحمان کاکہناتھا کہ عوام کا شعور بیدار ہے ، قوم اپنے خیر خواہ کو پہچاننے لگی ہے ، جے یو آئی نے دنیا کو بتادیا ہے کہ امن کا نظام صرف اسلام ہے ، حقوق کے تحفظ کا نظام دین اسلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ، ہم نے کبھی نفرتوں کی باتیں نہیں کیں ، امریکہ ، یورپ اسلام کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے ، ہم نے یہودیت کا مقابلہ کیا ، اپنے مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ،جے یو آئی بیت المقدس کی آزادی اور اس کیلئے قربانی دینے کی آواز ہے ، آج فلسطین پر قبضے کی بات ہورہی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ میں نے راولپنڈی کے ایک جلسے میں کہا تھا کہ اسلامی ملکوں کے درمیان ایک اسلامی بلاک ہونا چاہئے،امت مسلمہ بکھری ہوئی ہے ، امت مسلمہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ہے ، لوگوں نے اسلامی کانفرنس سے بڑی توقعات وابستہ کیں ، ہم سیاسی لوگ ہیں ، دنیا کے حالات سے واقف ہیں ، اسلامی بلاک کی طرف جانا ضروری ہے ، ہم نے کہا تھا کہ اسلامی دنیا کی ایک مشترکہ دفاعی قوت ہونی چاہئے،اگر سعودی عرب کے بادشاہ نے ہمارے وزیراعظم کیساتھ دفاعی معاہدے کئے ہیں،سعودی عرب اور پاکستان اسلامی دنیا کی قیادت کے لئے آگے بڑھیں ۔
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ساری منازل بیک وقت طے نہیں ہوتی،میں اس مرحلے پر غزہ کے مسلمانوں کی بات کروں گا ، فلسطین کی آزادی کے حوالے سے بات کروں گا،ہم آپکی جنگ پر کیسے اعتماد کریں،میں اس منظر کو دیکھ رہا ہو ں، عام آدمی کے سوالات کا جواب دینا پڑے گا ، ہم ملک کے پارلیمان کے ساتھ کھڑے ہیں ، اگر کسی طرف سے مذاکرات کی پیش رفت آتی ہے تو پر غور کریں گے ،جے یو آئی نے ہمیشہ ملک کی بہتر معیشت کی بات کی ہے ،پاکستان میں بے روزگاری ہے ، غربت ہے ، اگر حکمران ہے اور عیاشی کررہے ہیں ، دنیا کو بتایا جا رہا ہے ہم قربانی دے رہا ہے میں بھی قربانی دونگا ۔
ان کاکہناتھا کہ میرے ملک کے بجٹ کا دس فیصد حصہ مسلح گروہ کو دیا جا رہا ہے،چاروں صوبوں میں عوام کے مارچ ہونگے ، ہم قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرینگے ، ہم پاکستان کی عوام کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں ، اگر حکمران ہے تو سیدھے چلے ، اگر حکمران سیدھے نہیں چلیں گے تو ہماری بھی ذمہ داری ہے کے ہم ان کو سیدھے راستے پر لائیں ۔
یہ بھی پڑھیں:تحریک انصاف کو بڑی سیاسی کامیابی مل گئی