فلسطین پر اقوام متحدہ کی قرارداد ملک دشمن قرار، حافظ نعیم کا نوجوانوں کو متحرک کرنے کا عندیہ 

Nov 18, 2025 | 22:43:PM
فلسطین پر اقوام متحدہ کی قرارداد ملک دشمن قرار، حافظ نعیم کا نوجوانوں کو متحرک کرنے کا عندیہ 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عرباض پراچہ)معروف اینکرپرسن سلیم بخاری نے کہا ہے کہ فلسطین کی آزادی کے معاملے پر مسلم ممالک کی قیادت چپ سادھے ہوئے ہے، اقوام متحدہ کی قرارداد کو ملک دشمن قرار دے دیا۔

امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پروگرام ’’دی سلیم بخاری شو‘‘ میں خصوصی شرکت کے موقع پر بے روزگاری اور قانون وانصاف کو اپنا بنیادی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے ماضی کی پالیسیوں سے ہٹ کر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو متحرک کرنے کا عندیہ دیا۔

مزید ان کا کہنا تھا کہ روایتی پاور پالیٹیکس نے نظام کو تباہ کیا ہے اور ان کی جماعت ایک جمہوری لائحہ عمل پر یقین رکھنے والی جماعت ہے اور وہ روایتی سیاست سے ہٹ کر ان مسائل کو اپنا ایجنڈا بنائیں گے جنہیں پاوور پالیٹکس میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ لوگ مین سٹریم جماعتوں سے مایوس ہوچکے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل کے مسائل کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مڈل کلاس سکڑتی جارہی ہے اور عام آدمی کے لیے اس وقت زندگی گزارنا اجیرن ہوچکا ہے۔ کسانوں کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسان کےلیے کاشت ایک چیلنج بن چکا ہے اور یہ معیشت کیلیے بے حد خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر مشتمل ہے۔ ان تمام مسائل کو جماعت اسلامی عوام میں لے کر جائے گی اور عوام کو جماعت اسلامی کے ساتھ چلنے کی اپیل کرے گی۔

جماعت اسلامی کا بیانیہ کیا ہوگا کہ سوال کے جواب میں امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ یہ نظام نہیں چل سکتا اور نظام بدلنا ہوگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ نے عوام کو بہت طاقت دی ہے اور جب عوام کی رائے بن جاتی ہے تو نظام کو اسے ماننا پڑتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی اقتدار میں آئیں گے عوامی طاقت کے ذریعے آئیں گے ناکہ کسی چور دروازے سے، اپنا مینڈیٹ چوری ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام میں خاصی مقبولیت حاصل ہے، خاص طور پر کراچی میں مگر ان کی جیت کو ہار میں بدلا گیا۔

سیاسی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کو ہمیشہ چھینا گیا ہے اور یہ نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ عوام میں اس نظام کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے اور عوام اس نظام سے چھٹکارا چاہتی ہے اور جماعت اسلامی عوام کی حقیقی ترجمانی کرے گی۔

جو حسینہ واجد کے ساتھ ہوا مکافات عمل ہے، اسے جماعت اسلامی کے ساتھ کیے گئے مظالم کا صلہ ملا ہے۔ حسینہ واجد نے بڑی تعداد میں جماعت اسلامی کی لیڈر شپ کو شہید کیا ، یہاں تک کے طلباء اور خواتین تک کو پابند سلاسل کیا۔ 

فلسطین کی جدوجہد آزادی میں انہوں نے مسلم ممالک کی لیڈر شپ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک سے توقع کرنا بے سود ہے۔ مسلم ممالک کی لیڈر شپ کو دنیا کے طاقتور ملکوں کی جانب سے اپنی حکومتیں گرنے کا خطرہ رہتا ہے جس کی وجہ سے فلسطین کی آزادی پر مسلم ممالک کی لیڈرشپ چپ سادھے ہوئے ہے۔مزید انہوں نے فلسطین کے متعلق اقوام متحدہ کی قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو فلسطین دشمن قرار دیا۔