اب بجلی کمپنیوں نے عوام کو بجلی کے جھٹکے لگانے کی تیاری کر لی، نیپرا کو درخواستیں بھیج دیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) پہلے شہباز شریف نے پٹرول میزائل مارا، اب بجلی بیچنے والی کمپنیاں فیول مہنگا ہونے کا بہانہ کر کے شہریوں کو بجلی کے جھٹکے لگانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ کمپنیوں نے نیپرا کو شہریوں کی و ہ بجلی مہنگی کرنے کی درخواستیں دے دیں جو وہ پہلے استعمال کر چکے ہیںْ؎
بجلی بیچنے والی کمپنیوں نے فروری میں شہریوں سے جو کچھ نکلوایا اسے اب تھوڑا قرار دے رہی ہیں اور نیپرا سے کہہ رہی ہیں کہ شہریوں کا خون مزید نچوڑنے کی سہولت دی جائے۔
کمپنیوں نے نیپرا کو فیول ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے بعد اپریل کے بلوں میں فی یونٹ 1.64 روپے اضافے کی درخواست دی ہے۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے کہا کہ فروری میں بجلی کی کھپت میں اضافہ ہونے کے باوجود زیادہ تر پیداوار ملکی اور سستی پانی سے بنی سستی بجلی سے ہی پوری ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود فیول کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے شہریوں سے اضافی پیسے نکلوانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران کے صدر نے انٹیلی جنس کے وزیر اسمٰعیل خطیب کے شہید ہونےکی تصدیق کردی
ہمیشہ کی طرح امکان ہے کہ نیپرا اس مرتبہ بھی کمپنیوں کی فرمائش پر من و عن عمل کرے گی اور شہریوں کو فروری مین استعمال کی بجلی کی قیمت مزید ایک روپے 64 پیسے فی یونٹ ادا کرنا پڑے گی۔ تمام ڈسکوز اور کے-الیکٹرک مل کر کنزیومرز کی جیبوں سے اپریل کے بلوں کے ساتھ تقریباً 12.2 ارب 20 کروڑ روپے مزید نکلوائیں گی۔
عوامی سماعت ہو گی لیکن عوام نہیں جائیں گے
نیپرا نے فروری کے وصول کئے جا چکے بل کے مزید ایک روپیہ 64 پیسے فی یونٹ چارج کرنے کی کمپنیوں کی درخواست پر "عوامی سماعت" (public hearing) 31 مارچ کو krny ka aelan kia oy. پاور کمپنیوں کے مطابق فروری میں فی یونٹ فیول کی اوسط لاگت 8.37 روپے رہی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 8.23 روپے سے زیادہ ہے۔ جب نیپرا بجلی کی قیمت مین اضافہ کرنے کے لئے کوئی پبلک ہئیرنگ کرتی ہے تو اس میں پبلک نہیں آتی۔ بے حد پیچیدہ عمل میں پبلک کو اعتراض کرنے کے لئے بلایا تو جاتا ہے لیکن صرف ایک دو این جی اوز کے نمائندے ہی وہاں جاتے ہیں جو بجلی کی قیمت میں اضافے میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ہائیڈرو پاور نے قومی گرڈ میں 23 فیصد حصہ ڈالا۔ ہائیدرو پاور پانی سے بنتی ہے اور سب سے سستی بجلی شمار ہوتی ہے۔ نیوکلیئر پاور کا حصہ 18.83 فیصد رہا جبکہ ملکی کوئلے سے بنائی گئی بجلی 16 فیصد، درآمد شدہ کوئلہ سے بنی بجلی 15 فیصد، مقامی گیس سے بنائی بجلی 11.52 فیصد اور ریگیسفائیڈ ایل این جی سے بنائی مہنگی ترین بجلی 9.47 فیصد رہی۔ فرنس آئل اور ڈیزل سے پیداوار فروری میں صفر رہی۔
ریگیسفائیڈ ایل این جی سے بنائی گئی بجلی کی کاسٹ فی یونٹ 23.21 روپے، درآمد شدہ کوئلہ 13.56 روپے، مقامی کوئلہ 13.5 روپے اور مقامی گیس 12.22 روپے فی یونٹ رہی۔ نیوکلیئر ایندھن کی لاگت 2.50 روپے فی یونٹ بتائی گئی ہے۔ لیکن شہریوں سے جو کم سے کم بھی قیمت وصول کی جائے گی وہ بجلی بنانے کی لاگت سے بہت زیادہ ہے۔
فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کے نام پر شہریوں کو پہلے بیچی جا چکی بجلی کی قیمت پر بار بار نظرثانی کی جاتی ہے اور جب چاہین شہریوں سے مزید پیسے نکلوانے کے لئے نئے بل میں پرانی بجلی کی اضافی قیمت بھی ڈال دی جاتی ہے۔