اسمٰعیل خطیب کا ایرانی حکومت کو چلانےمیں کلیدی کردار تھا، اسرائیلی فوج نے بھی شہید ہونےکااعلان کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) اسرائیلی فوج ایران کے انٹیلی جنس کے وزیر اسعمیل خطیب کو شہید کرنے کو اپنی اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے حوالے سے اسرائیلی میڈیا میں یہ رپورٹس شائع ہوئی ہین کہ انٹیلی جنس وزیر خطیب کا حکومت کے ایران یکے اندر کنٹرول کو برقرار رکھنے سے متعلق سرگرمیوں میں کلیدی کردار تھا.
ایران نے اب تک اسرائیل کے وزیر دفاع کی طرف سے کئے گئے اعلان کی تصدیق نہیں کی کہ اسمعیل خطیب گزشتہ رات کے حملے میں مارے جا چکے ہیں۔
وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے اعلان کے بعد، آئی ڈی ایف نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب رات کو ایران میں ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
اسمٰعیل خطیب، جو 2021 سے انٹیلی جنس کے وزیر کے طور پر کام کر رہے تھے، ان کو اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت تہران میں نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران کے وزیرانٹیلی جنس اسمعیل خطیب بھی شہید ہو گئے، اسرائیل کا دعویٰ
ٹائم آف اسرائیل نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وزارت انٹیلی جنس "ایرانی حکومت کی بنیادی انٹیلی جنس تنظیم ہے، جس نے حکومت کے جبر اور اختلاف کو کچلنے کی سرگرمیوں کی حمایت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔"
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ایران کی انٹیلی جنس کی وزارت کے پاس دنیا بھر میں خاص طور پر ریاست اسرائیل اور ایرانی شہریوں کے خلاف نگرانی، جاسوسی اور خفیہ کارروائیوں کی نگرانی کے لیے جدید ترین انٹیلی جنس صلاحیتیں ہیں۔
انٹیلی جنس وزیر کے طور پر، IDF کا کہنا ہے کہ خطیب نے "ایران بھر میں حالیہ مظاہروں کے دوران، مظاہرین کی گرفتاریوں اور ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے انٹیلی جنس اسیسمنٹ کو تشکیل دینے کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا،" اور 2022-2023 میں مہسا امینی کے قتل پر ہونے والے ملک گیر احتجاج کے دوران بھی احتجاج کو کنٹرول کرنے اور صورتحال کو سنبھالنے میں خطیب کا بنیادی کردار تھا۔
خطیب نے موجودہ جنگ کے دوران وزارت کی "دنیا بھر میں اسرائیلی اور امریکی اہداف کے خلاف سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے اندر اہداف کے خلاف ہدایت کی گئی سرگرمیوں" کی بھی قیادت کی.
یہ بھی پڑھیئے: علی لاریجانی کی شہادت سے نظام متاثر نہیں ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ