"حمیرا اور اس کے کام سے جڑی خوبصورت یادیں" پنجاب یونیورسٹی میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پنجاب یونیورسٹی کے کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے گرافک ڈیزائن ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام اداکارہ حمیرا اصغر کی یاد میں "حمیرا اور اس کے کام سے جڑی خوبصورت یادیں"کے نام سے ایک پرتاثیر تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا۔
تقریب کا اہتمام حمیرا کے کلاس فیلوز، کالج فیلوز اور پرفارمنگ آرٹس سوسائٹی ناٹک کے ممبران نے مل کر کیا،قران خوانی اور دعا کے بعد ہر آنے والے نے حمیرا کی یاد میں ایک شمع روشن کی، بعد میں باری باری سب نے حمیرا سے جڑی باتوں کا تذکرہ کیا۔
حمیرا کے کلاس فیلو ابراہیم شہزاد نے ان کی پڑھائی کے ساتھ کمٹمنٹ اور تھیٹر سے بے حد لگاو کا ذکر کرتے ہوئے ان کے یاد گار تھیٹر ڈراموں کے بارے میں ایک تفصیلی تحریر پڑھی ۔ لینا ثروت نے ان کی انتھک محنت کا ذکر کیا اور کہا کہ حمیرا جیسا محنت کرنے والا کوئی نہیں اور اگر ہم مثال ڈھونڈنے نکلیں تو ا ن کی طرح کا کوئی اور نہیں ملتا۔ احسن نے ان کی کراچی منتقل ہونے کے بعد اس شہر کی مشکلات کا ذکر کیا،یاسر نے بتایا کہ کیسے ایک شوٹ کے دوران ان کو حمیرا نے قدم قدم پر اس کام کی باریکیوں سے آگا ہ کیا۔
حمیرا کے سینئر شاہد انجم نے کہا کہ میں ناٹک کے ایک کھیل میں سیٹ لگا رہا تھا ،سب لوگوں سے بات ہوتی لیکن حمیرا ہمیشہ خاموشی سے اپنے کام میں ڈوبی رہتی ۔ ایک دن میں سیٹ پر کچھ رنگ وغیرہ کر رہا تھا تو اچانک حمیرا کی آواز آئی۔۔ "شاہد بھائی یہ والا رنگ نہیں یہ دوسرا لگے گا"۔ یعنی وہ دیکھتی رہتی اور جہاں اسے لگتا صرف وہیں بولتی۔ اس نے ہمیشہ مجھے شاہد بھائی کہا اور میرے دل میں وہ ہمیشہ ایک بہت پیاری بہن کے طور پر رہے گی۔ حمیرا کا ذکر کرتے ہوئے کی ان کی ایک سینئر عائشہ ملک اپنے آنسووں پر قابوں نہ رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں بہت خلوص اور احترام تھا ۔حمیرا کے جونئیرز میں نور نے کہا کہ کیا اس معاشرے میں بیٹی ہونے کا مطلب یہی ہے کہ کچھ بھی اپنی مرضی سے نہیں کیا جا سکتا؟ شاہ پارہ نے ان کی پرفارمنگ آرٹس ورکشاپس میں سیکھنے اور سکھانے کا عمل کو یاد کیا۔ نایاب نے پروفیسر شاہنواز زیدی کے لکھے پاکستان تہذیب وثقافت کے آئینے میں حمیرا کے کئے کردار موہنجاداڑو کی نرتکی کو ایک آئیکونک کرادر کہا اور یاد دلا یا کہ وہ کالج میں اسی نرتکی کے نام سے مشہور تھی۔ناٹک سوسائیٹی کے موجودہ ڈائریکٹر احمد الیاس نے کہا کہ حمیرا کے موت رائیگاں نہیں جائے گی اور بہت کچھ ہے جو ابھی سامنے آئے گا۔
حمیرا کے اساتذہ میں پروفیسر احمد بلال نے کہا کہ آرٹ کا ہر شعبہ جان مانگتا ہے اور آپ کو ہر کام میں جان ڈالنی پڑتی ہے،حمیرا ہماری بیٹی تھی اور اس نے ہمیشہ ہر کام کو پورے دل اور جان لگا کر کیا،اس نے اس کالج اور یونیورسٹی کو ایک شاگرد کے طور پر کئی پلیٹ فارمز پر ریپریزنٹ کیا اور کئی انعامات جیتے، پروفیسر اسرار چشتی نے کہا کہ حمیرا نے جو کام کرنا چاہا اس کو پوری طاقت اور آزادی سے کیا اور آزادی کا ایک لمحہ کئی زندگیوں سے قیمتی اور بابرکت ہوتا ہے،وہ ہماری یادوں میں ایک نوجوان اور بھرپور توانائی والی خوبصورت انسان کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اداکار ٹیپو نے حمیرا کی زندگی کو تھیٹر کا ایک استعارہ قرار دیا،اداکار نور الحسن نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو آپ کو جنت میں دیکھ کے حیرت ہوگی کہ یہ بھی یہاں ہے اور سب سے زیادہ آپ کو حیرت اس بات پر ہو گی کہ آپ بھی یہاں ہے،انہوں نے استاد اور شاگرد کے تعلق کو ایک آفاقی تعلق کہا اور کالج کے اساتذہ کو مبارکباد دی کے انہوں نے آرٹ کی کیا خوبصورت دنیا بسائی ہے اور کیسے وہ اپنے ہر شاگرد سے محبت اور انس رکھتے ہیں یہ آج کی دنیا میں ناپید ہے۔
آخر میں پروفیسر شاہنواز زیدی نے اپنے سب شاگردوں کو ہمیشہ پورے دل و جان سے محنت کرنے کی نصیحت کی اور کہا کہ انسان کے بس میں بس اتنا ہے کہ جو اس کے بس میں ہے اسے پورے دل و جان سے کرے، حمیرا نے یہ کوشش کر دکھائی اور آپ سب کو یہ کر دکھا نا ہے،باقی کسی کو شہرت ملے یا نہ ملے، پیسہ ہو یا نہ ہو، یہ ہمارا مقصد نہیں،مقصد صرف اتنا ہے کہ جتنی بساط ہے اتنا کرتے جائیں اور بعد والوں کو ایک بہتر دنیا پیش کریں۔
تقریب کے آخر میں ایک بار پھر دعا کروائی گئی اور اس دعا اور وعدے کے ساتھ سب رخصت ہوئے کہ ہم میں جتنی بساط ہے اتنا حصہ ہم سب ہمیشہ اپنے ہر کام میں ڈالیں گے۔ طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعداد آخر تک اس تین گھنٹے لمبی نشست میں شروع سے آخر تک موجود رہی۔
یہ بھی پڑھیں: سی ایم فری وائی فائی سروس کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا گیا