برطانوی وزیرِاعظم کا ٹرمپ کو سخت پیغام، نیٹو اتحادیوں پر ٹیرف کو ’غلط قدم‘ قرار دے دیا

Jan 18, 2026 | 09:33:AM
برطانوی وزیرِاعظم کا ٹرمپ کو سخت پیغام، نیٹو اتحادیوں پر ٹیرف کو ’غلط قدم‘ قرار دے دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کے یورپی اتحادیوں پر مجوزہ تجارتی پابندیوں کو کھلے الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے اتحادِ نیٹو کے اجتماعی تحفظ کے خلاف قرار دیا ہے۔

اسٹارمر کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک پر ٹیرف عائد کرنا نہ صرف غلط بلکہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں کی اجتماعی سلامتی کے لیے کیے گئے اقدامات پر انہیں سزا دینا سراسر غلط ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ، ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کو کرنا ہے۔

اسٹارمر نے یہ بھی کہا کہ آرکٹک خطے کی سلامتی پورے نیٹو کے لیے اہم ہے اور اتحادیوں کو باہمی تعاون سے خطرات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:افریقی ممالک میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 100 سے زائد ہلاکتیں،لاکھوں بے گھر

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ڈنمارک، برطانیہ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ سمیت کئی یورپی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

ٹرمپ کے مطابق اگر یکم جون تک امریکا اور گرین لینڈ کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا، امریکی صدر گرین لینڈ کو قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کی ’مکمل اور حتمی خریداری‘ پر زور دے رہے ہیں۔

یورپی ردعمل بھی خاصا سخت رہا ہے، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے امریکی اقدام کو ناقابلِ قبول اور دباؤ کی سیاست قرار دیا، جبکہ سویڈن کے وزیرِاعظم اولف کرسٹرسن نے کہا کہ ان کا ملک بلیک میلنگ قبول نہیں کرے گا، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے خبردار کیا کہ تجارتی دباؤ خطرناک سلسلے کو جنم دے سکتا ہے۔

یورپی یونین کے اعلیٰ حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے امریکا اور یورپ کے تعلقات کمزور ہوں گے، جس کے بعد یورپی سفیروں کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:بانی پی ٹی آئی اور محمود اچکزئی کی دوستی 2 ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی:اختیار ولی خان

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور روس و چین کے اثرورسوخ کا حوالہ دیتے رہے ہیں، تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت مسلسل یہ واضح کرتی آئی ہے کہ یہ خطہ فروخت کے لیے نہیں اور اس کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔