آبنائے ہرمز میں نیا سمندری راستہ، ایرانی منظوری لازمی قرار 

Mar 17, 2026 | 14:06:PM
آبنائے ہرمز میں نیا سمندری راستہ، ایرانی منظوری لازمی قرار 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )آبنائے ہرمز میں ایک نیا حساس سمندری راستہ سامنے آیا ہے، جس کے لیے جہازوں کو ایرانی حکام کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہو گی۔

عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق یہ غیر رسمی میرین ٹریفک کنٹرول نظام کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی ٹینکرز نے ایرانی ساحل کے قریب اس محفوظ راستے سے گزر کر اسے اہم علامتی حیثیت دی ہے، نئے راستے کی اہمیت جزیرہ لارک اور قشم جزیرے کے درمیان واضح ہو گئی ہے، جہاں سے گزرنا ہر جہاز کے لیے لازمی ہو جائے گا۔

 اس راستے سے گزرنے کے لیے تہران سے سیاسی گرین سگنل کی ضرورت ہو گی، تاکہ جہاز محفوظ طریقے سے راستہ طے کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی معیشت کیلئے اچھی خبر،غیر ملکی سرمایہ کاری  میں زبردست اضافہ

بین الاقوامی بیمہ کمپنیاں اور بینک اس نئے نظام اور بڑھتے خطرات سے پریشان ہیں، کیونکہ ایرانی منظوری کے بغیر جہازوں کی نقل و حمل ممکن نہیں۔

مزید برآں بھارت، ترکی اور دیگر کئی ممالک نے ایران سے محفوظ راہداری کی درخواستیں بھی کر دی ہیں، تاکہ خطے میں بحری نقل و حمل کے خطرات کم کیے جا سکیں۔