کم کیلوریز والی غذا مسوڑھوں کی بیماری میں کمی لانے میں مددگار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز ) مختصر مدت کے لیے کم کیلوریز والی غذا اختیار کرنا یا محدود خوراک لینا مسوڑھوں کی بیماری اور سوزش میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہبرطانیہ کی کنگز کالج لندن کے سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد نے چھ دن تک محدود کیلوریز والی غذا اپنائی، ان کے منہ میں سوزش کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
تحقیق کے دوران سپین کے مختلف سپتالوں سے 28 مریضوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، شرکاء کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں ایک گروہ نے کم کیلوریز والی غذا اختیار کی جبکہ دوسرے گروہ نے اپنی معمول کی خوراک جاری رکھی۔
غذائی منصوبے کے تحت ابتدائی دو دن روزانہ 1100 کیلوریز، اگلے تین دن 750 کیلوریز دی گئیں، جبکہ چھٹے دن نرم غذاؤں کے ذریعے کیلوریز میں بتدریج اضافہ کیا گیا، ساتویں دن تمام شرکاء معمول کی خوراک پر واپس آ گئے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق مختصر مدت کی یہ غذائی پابندی مسوڑھوں کی سوزش اور بیماری کی علامات کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسوڑھوں کی بیماری، جسے جنجیوائٹس یا پیریوڈونٹائٹس کہا جاتا ہے، عام طور پر منہ کی صفائی میں غفلت اور دانتوں پر پلاک جمع ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یونیورسٹی آف گرین وچ کی 2024 کی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ میں مسوڑھوں کی بیماری سے متاثرہ افراد کی شرح 2050 تک 42 فیصد سے بڑھ کر 54 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور کنگز کالج لندن میں اورل مائیکرو بائیوم کے ماہر پروفیسر لوئیگی نیبالی کے مطابق محدود خوراک یا روزے کے فوائد کی ایک وجہ جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس میں کمی بھی ہو سکتی ہے، جو سوزش، خلیاتی نقصان اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ کیلوریز والی غذائیں اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، جیسے کیک اور بسکٹ، جسم میں سوزش بڑھا سکتے ہیں، جبکہ ان کے استعمال میں کمی آکسیڈیٹو اسٹریس اور سوزش کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ریسکیو ایمرجنسی کیلئے ترقیاتی بجٹ کی تجاویز سامنے آ گئیں