کیا انٹرنیٹ انسانوں کے ہاتھ سے نکل رہا ہے؟ نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

Aug 23, 2026 | 15:20:PM
کیا انٹرنیٹ انسانوں کے ہاتھ سے نکل رہا ہے؟ نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انٹرنیٹ پر بننے والے نئے ویب پیجز میں سے ایک تہائی سے زیادہ پر اے آئی کی مدد سے تحریر یا ایڈیٹنگ کی گئی۔

پیُو ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 35 فی صد نئے ویب پیجز میں اے آئی کی ’نمایاں‘ شمولیت کے آثار پائے گئے ہیں۔

تحقیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ماہرین اور انٹرنیٹ صارفین کے درمیان ڈیڈ انٹرنیٹ تھیوری کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں، اس نظریے کے مطابق انٹرنیٹ پر مواد کی تیاری اور اسے استعمال کرنے میں انسانوں کے بجائے خودکار نظاموں اور بوٹس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

پیُو ریسرچ سینٹر نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جمع کیے گئے تقریباً پانچ لاکھ انگریزی زبان کے ویب پیجز پر مشتمل ایک ویب آرکائیو کا جائزہ لیا۔

 یہ بھی پڑھیں:بیروزگار نوجوانوں کیلئے بڑی خوشخبری!بھرتیاں کھل گئیں

محققین نے ان ویپ پیجز کے متن کو اوپن پروگرام نامی ٹول کے ذریعے جانچا، جو یہ اندازہ لگاتا ہے کہ تحریر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے کتنے امکانات ہیں۔

تحقیق کے مجموعی نمونے میں تقریباً 10 فی صد پیجز پر اے آئی سے تحریر کیے جانے کے نمایاں آثار ملے، البتہ جب محققین نے صرف چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد شائع ہونے والے پیجز کا جائزہ لیا تو یہ شرح بڑھ کر 35 فی صد ہو گئی۔

تحقیق کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ویب پر اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کے ساتھ ساتھ اے آئی بوٹس کی سرگرمی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے مستقبل کے انٹرنیٹ میں انسانی اور مصنوعی مواد کے درمیان فرق کرنا مزید مشکل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔