بلوچستان کا 1020 ارب روپے کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ

Jun 17, 2025 | 19:36:PM
 بلوچستان کا 1020 ارب روپے کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( عیسیٰ ترین) بلوچستان حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 1020 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے  جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ جبکہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ 

صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے مالی سال 2025-26 کے لیے بلوچستان اسمبلی میں 1020 ارب روپے کا سالانہ بجٹ پیش کر دیا، بجٹ اجلاس سپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہو، بلوچستان اسمبلی میں صوبے میں سیکورٹی اہلکاروں کی دہشت گردی کے واقعات میں شہادت پر  ایواںیں فاتحہ خوانی کی گئی۔ 

بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، زراعت اور امن و امان کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

 بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 640 ارب روپے ہے،بلوچستان کے اپنے وسائل سے ترقیاتی اخراجات کے 249 ارب روپے مختص کئے گئے، وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لئے 66 ارب 50 کروڑ دستیاب ہونگے ،غیر ملکی امداد سے چلنے والے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 30 ارب روپے  جبکہ  آئندہ مالی سال کے لئے وفاقی محاصل سے آمدن کا تخمینہ  801 ارب روپے لگایا گیا ہے، بلوچستان کی اپنی محصولات سے آمدنی 101ارب روپے ہوگی۔

 سوئی گیس لیز توسیع بونس سے 24 ارب روپے کی آمدن متوقع  ہے ،آئندہ مالی سال کے لئے کل آمدنی کا تخمینہ 1020 روپے ہے جبکہ کل اخرجات کا تخمینہ 986 ارب روپے ہے،بجٹ میں مجموعی بچت کا اندازہ 34 ارب روپے متوقع ہے۔ 
 مختلف محکموں کا ترقیاتی بجٹ ؛ 

ترقیاتی شعبہ  میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کو پہلی ترجیح دی گئی ہے،محکمہ مواصلات کے لئے ترقیاتی بجٹ کا 19 فیصدمختص کیا گیا ،محکمہ مواصلات کے لئے 55 ارب 21 کروڑ سے زائد کی رقم رکھی گئی،محکمہ ایریگیشن کے لئے 42 ارب 78 کروڑ روپے مختص کیے گئے ،سکول ایجوکیشن کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 19 ارب 85 کروڑ مختص کئے گئے۔ 

 صحت کے شعبہ کی ترقیاتی منصوبوں کے لئے 16 ارب 15 کروڑ  ،محکمہ بلدیات کے ترقیاتی بجٹ 12 ارب 91 کروڑ روپے،محکمہ زراعت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10 ارب 17 کروڑ ،محکمہ توانائی کا ترقیاتی بجٹ 7 ارب 84 کروڑ روپے اور ہائیر ایجوکیشن کے لئے ترقیاتی بجٹ 4 ارب 99 کروڑ مختص کئے گئے۔ 

 معدنیات اور کان کنی کے شعبہ کی ترقی کے لئے 56 کروڑ 76 لاکھ  ،ترقی نسواں کے محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 15 کروڑ 40 لاکھ ،سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ترقیاتی بجٹ 12 ارب 66 کروڑ  ،محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے محکمہ کے ترقیاتی بجٹ کے لئے 17 ارب 16 کروڑ مختص کئے گئے۔ 

  بجٹ دستاویزات کے مطابق محکمہ صحت کا غیر ترقیاتی بجٹ 71 ارب روپے ،سکول ایجوکیشن کا غیر ترقیاتی بجٹ 101 ارب روپے مختص ،ہائیر ایجوکیشن کے شعبہ کے غیر ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 24 ارب روپے ،محکمہ زراعت کے غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے 16 ارب 77 کروڑ مختص کئے گئے،محکمہ خوراک کے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 1 ارب 19 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ 

 بجٹ میں سرکاری ملازمین  کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کردیا گیا، گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین کے ڈسپیرٹی الاؤنس میں 20 فیصد تک اضافہ کیا گیا،بلوچستان پنشن فنڈ کے لیے 1 ارب روپے مختص کئے گئے۔ 
 تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں اقدامات کرتے ہوئے سکول ایجوکیشن کے لیے 101 ارب روپے (غیر ترقیاتی)، 19.8 ارب (ترقیاتی)ہیلتھ کارڈ کے تحت 2 لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج کی فراہمی جبکہ صحت کا غیر ترقیاتی بجٹ 71 ارب روپے، ترقیاتی بجٹ: 16.4 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا اس کے علاوہ ،6 نئی ایمبولینسز، 663 میڈیکل  سٹاف کی بھرتی ژوب اور نصیرآباد میں 20 بستروں پر مشتمل ICU ہسپتال  کا قیام بھی شامل ہے۔ 
 صوبے مین امن و امان کے حوالے سے بلوچستان پولیس و کانسٹیبلری کے لیے 51.3 ارب روپے،شہری دفاع کے لیے 83.7 ارب (غیر ترقیاتی) اور 3 ارب (ترقیاتی)،جیلوں کی بہتری کے لیے 2.11 ارب روپے مختص کئے گئے۔ 
 علاوہ ازیں ، دیگر شعبوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے12.6 ارب ترقیاتی، 2.67 ارب غیر ترقیاتی ،ہائیر ایجوکیشن، 5 ارب ترقیاتی، 24 ارب غیر ترقیاتی،سبی یونیورسٹی کے لیے 1 ارب روپے
ماحولیاتی تبدیلی، معدنیات، کھیل، لیبر، ماہی گیری کے لیے بھی بجٹ میں خطیر رقم مختص کی گئی۔  
صوبائی وزیر خزانہ  میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ یہ بجٹ صوبے کے تمام طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے ، تعلیم، صحت، زراعت، مواصلات، امن و امان، اور سولر انرجی جیسے شعبے حکومت کی ترجیح ہیں۔