تھیٹر انڈسٹری میں نئی ہلچل,خواتین کے بعد مرد فنکار بھی پابندیوں کی زد میں؟

تحریر ;زین مدنی حسینی

Nov 16, 2025 | 20:02:PM
تھیٹر انڈسٹری میں نئی ہلچل,خواتین کے بعد مرد فنکار بھی پابندیوں کی زد میں؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پنجاب کی تھیٹر انڈسٹری ایک بار پھر سخت حکومتی اقدامات کے باعث بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ پنجاب کونسل آف دی آرٹس کی جانب سے حالیہ دنوں میں چھ خواتین اداکاراؤں پر ایک سے دو ماہ کی پابندی نے پورے تھیٹر حلقے میں ہلچل مچائی تھی۔ یہ پابندیاں مبینہ طور پر غیر اخلاقی ڈانس پرفارمنسز اور غیر اخلاقی ویڈیوز سامنے آنے پر لگائی گئیں، جن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
تاہم اب صورتحال مزید سنگین ہونے جا رہی ہے، کیونکہ محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب اور پنجاب کونسل آف دی آرٹس نے فیصلہ کیا ہے کہ صرف خواتین پر نہیں بلکہ مرد فنکاروں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ یہ وہ مطالبہ بھی تھا جو خواتین فنکاراؤں نے گزشتہ دنوں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے اٹھایا تھا کہ:
"غیر اخلاقی پرفارمنسز صرف خواتین نہیں کرتیں، مرد اداکار بھی اس میں شامل ہیں، لہٰذا کارروائی سب پر یکساں ہونی چاہیے۔
ذرائع کے مطابق مرد فنکاروں کی ایک طویل فہرست محکمہ اطلاعات و ثقافت کو موصول ہو چکی ہے، جن کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔ ان میں شامل ہیں
گوشی ٹو
بلا شیخوپوریا
امجد رانا
وکی کوڈو
سجاد شوکی
عمران شوکی
تسلیم عباس
گڈو کمال
راشد کمال
ندیم چٹا
گلفام
سرفراز وکی
عظیم وکی
افشان چیمہ
ناصر مستانہ 

اس کے علاوہ بھی کئی دیگر سینئر فنکار ایسے ہیں جو تھیٹر میں غیر اخلاقی جملے، بے ہودہ مکالمے یا نامناسب اسٹیج پرفارمنس کے باعث سخت نگرانی میں ہیں۔ محکمے نے ان کے نام فی الحال خفیہ رکھے ہوئے ہیں، لیکن ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین کی طرح مرد اداکاروں پر بھی ایک سے دو ماہ کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے اور اس کا نوٹیفکیشن کسی بھی وقت جاری ہونے والا ہے۔
خواتین پر پابندی کے بعد جب مرد اداکاروں کو اس ممکنہ ایکشن کی اطلاع پہنچی تو تھیٹر برادری میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ متعدد مرد فنکار مختلف ذرائع کے ذریعے اپنے ممکنہ نوٹیفکیشن رکوانے کی کوششیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ان کے نزدیک یہ پابندیاں ان کے کیریئر، ڈراموں کے شیڈول اور مالی حالات کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہیں۔
کئی فنکاروں نے پسِ پردہ کوششیں تیز کر دی ہیں کہ ان کے خلاف آنے والا فیصلہ نرم ہو جائے یا مکمل طور پر روکا جا سکے۔ تاہم محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب واضح کر چکا ہے کہ تھیٹر کو صاف ستھرا اور فیملی انٹرٹینمنٹ کے مطابق چلانے کے لیے اب سخت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں.
تھیٹر انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی بے ہودگی، غیر معیاری مکالمے اور اخلاقی حدود کی خلاف ورزیوں پر ایک عرصے سے سوال اٹھائے جا رہے تھے۔ پنجاب حکومت کے یہ اقدامات اگرچہ سخت ہیں، مگر ان کے اثرات دور رس ہوں گے
کیا مستقبل میں فنکار خود احتسابی کی طرف آئیں گے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والا وقت ہی دے گا۔
پنجاب کا تھیٹر ایک نئے دور میں داخل ہونے والا ہے—جہاں ماضی کی طرح چھوٹ نہیں ملے گی، اور احتساب صرف خواتین نہیں بلکہ تمام فنکاروں کا ہوگا۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: