گرمی میں پابندی:14لاہوریوں نے 55 دنوں میں دریا اور نہروں میں ڈوب کر جانیں ٹھنڈی کرلیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص احمد) لاہور میں پابندی کے باوجود گرمی کے ستائے شہری دریائے راوی اور نہروں میں نہانے لگے،رواں سال کے دوران دریائے راوی اور نہروں میں ڈوب کر 14 افراد جان سے گئے۔
لاہور کے شہری پابندی کے باوجود دریا اور نہروں میں نہانے سے باز نہیں آتے ، جس کے باعث ایک درجن سے زائد شہری 25اپریل سے 15 جون تک میں پانی میں ڈوب کر اپنی جانیں گنوا بیٹھیں ہیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ 25 اپریل کو شفیق آباد میں دریائے راوی میں ڈوب کر ایک ہی خاندان کے 3 بچے جاں بحق ہوئے،ڈوبنے والوں میں 6 سالہ نصیب اللہ، 7 سالہ امیر حمزہ اور 9 سالہ قدرت اللہ شامل ہیں۔ 23 مئی کو شاہدرہ میں دریائے راوی میں نہانے والا 21 سالہ سفیان ڈوب کر جاں بحق ہوا،یکم جون کو بھسین گاؤں کے قریب بی آر بی کینال سے ایک شخص کی لاش ملی، 6 جون کو ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب نہر میں نہاتے ہوئے 12 سالہ بچہ ڈوب گیا،عید کے پہلے روز 7 جون کو دھرم پورہ پل کے قریب نہر سے نامعلوم شخص کی لاش ملی،8 جون کو ہربنس پورہ نہر سے نامعلوم شخص کی لاش نکالی گئی، 8 جون کو ایڈن کینال ولاز کے قریب نہر سے ایک نامعلوم بچے کی لاش ملی،10 جون کو گلزار انڈر پاس کے قریب نہر سے ایک نامعلوم خاتون کی لاش ملی، 10 جون کو چوہنگ کے علاقہ میں نہر سے 15 سالہ نامعلوم لڑکے کی بھی لاش ملی، 11 جون کو سندر کے علاقہ میں نہر سے 35 سالہ نامعلوم شخص کی لاش ملی، 12 جون کو شاہدرہ میں دریائے راوی کی بارہ دری کے قریب نامعلوم شخص کی لاش ملی، 12 جون کو بحریہ ٹاؤن کے قریب نہر سے نامعلوم شخص کی لاش نکالی گئی۔لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دریائے راوی اور نہروں میں نہانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے ایران سے متصل سرحدی کراسنگ پوائنٹس بند کردیئے