شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کوبچھڑے28برس بیت گئے

جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا

Aug 16, 2025 | 10:47:AM
شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کوبچھڑے28برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)شہنشاہِ قوالی اُستاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 28برس بیت گئے،وہ جگر اورگردوں کے عارضے کے باعث 16 اگست 1997ءکو دنیائے فانی سے کوچ کرگئے تھے لیکن ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

1948ءکوفیصل آباد میں معروف قوال فتح علی خان کے گھر پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان قوالی اور لوک موسیقی میں اپنی پہچان آپ تھے،ان کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے،ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کرکے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی،اُستاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اورمشرق و مغرب میں مقبول عام بنانے میں صرف کردی،انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کودُنیاکے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بھی بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔


16 سال کی عمر میں انہوں نے صوفی قوالی کا رنگ اپنایااوردُنیا کے مختلف ممالک میں اپنے منفرد صوفی انداز سے سب کو گرویدہ بنالیا،انہوں نے اردو،پنجابی اور فارسی زبان میں قوالیاں اور غزلیں گائیں جنہیں بے حد سراہا گیا،ملی نغمے بھی گائے جن میں”میرا پیغام پاکستان“سب سے زیادہ مقبول ہے۔


انہوں نے متعدد قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز بھی حاصل کیے،متعدد بھارتی فلموں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایابالخصوص بالی وُوڈ کی مشہور فلم دھڑکن کا گانا”دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے“ کو تو بے حد پذیرائی ملی تھی۔
ان کی گائی ہوئی کئی قوالیوں اور گیتوں کو پاکستان و بھارت کے گلوکاروں نے اپنے اپنے انداز میں گایا ہے،ان کا پہلا تعارف خاندان کے دیگرافراد کی گائی ہوئی قوالیوں سے ہوا،”حق علی مولا علی“ اور ”دم مست قلندرمست مست“ نے انہیں شناخت دی،بین الاقوامی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995 میں ریلیز ہونے والی فلم”ڈیڈ مین واکنگ“ تھا جس کے بعد انہوں نے ہالی وُڈ کی ایک اور فلم ”دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ“ کی بھی موسیقی ترتیب دی۔


 عالمی سطح پر جتنی شُہرت انہیں ملی وہ شاید کسی اور موسیقار یا گلوکار کو نصیب نہیں ہوئی، بطور قوال ان کے 125 آڈیو البم ریلیز ہوئے جو ورلڈ ریکارڈ ہے جن میں دم مست قلندر مست ،علی مولا علی،یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے،میرا پیاگھر آیا،اللہ ہو اللہ ہو، کنہا سوہنا تینوں رب نے بنایا سمیت کئی یادگار قوالیاں اور گیت شامل ہیں۔


بالی وُڈ کی کئی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ اپنی آواز کا جادو بھی جگایاجس میں ”اور پیار ہوگیا“، ”کچے دھاگے“ اور ”کارتوس“ شامل ہیں،انہیں گیت، غزل، قوالی،کلاسیکل اورنیم کلاسیکل پر مکمل عبور حاصل تھا،انہوں نے اپنے فن کو اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا اور دنیا بھر میں بے شمار غیر مسلموں کو مسلمان بھی کیا،وہ حقیقی معنوں میں پاکستان کے بہترین سفیر تھے کہ جہاں لفظ”پاکستان“سے لوگ ناواقف تھے وہاں پاکستان کو ایک عظیم ملک کے طور پر متعارف کرایا۔


پاکستان میں نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف اپنے خاندان کی روایتی رنگ میں گائی ہوئی قوالیوں سے ہوا،ان کی مشہور قوالی”علی مولا علی“ انہی دنوں کی یادگار ہے بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر شعراءکا کلام اپنے مخصوص انداز میں گا کرکامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اس دور میں”سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا“ اور ”سانسوں کی مالا پہ“نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ نہ رکھنے والے طبقے کو بھی اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔
وہ صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر گبریل کی موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی”دم مست قلندر مست مست“ ریلیز ہوئی،اس مشہور قوالی کے منظر عام میں آنے سے پہلے وہ امریکہ میں بروکلن اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ ویوو فیسٹیول میں بھی فن کے جوہر دکھا چکے تھےلیکن”دم مست قلندر مست مست“ کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:گوہر رشید کی والدہ اورکبریٰ خان کی ساس بھی اداکارہ بن گئیں
انہوں نے بالی ووڈ میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی متنازع فلم ”بینڈٹ کوئین“ کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی،انہوں نے جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا اور نئی نسل میں کافی مقبولیت حاصل کی۔