مودی کیلئے الٹی گنتی شروع
حروف : نوید چودھری
Stay tuned with 24 News HD Android App
تاریخ میں پہلی بار کسی ایٹمی ملک کے اندر حملہ کرنے کی واردات کرنے والا مودی بھارت کے ساتھ اپنے دوست ممالک کے لیے بھی بوجھ بن چکا ہے۔ پہگام واقعہ کے بعد عام خیال یہی تھا کہ بھارت لائن آف کنٹرول کو گرم کرے گا۔ پاکستان کے اندر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان جواباً میزائلوں کی بارش کر دے گا۔ یہی تجزیہ ان سطور میں بھی پیش کیا گیا تھا۔ چھ اور سات مئی کی درمیانی شب جب بھارت نے آزاد کشمیر کے ساتھ بہاولپور اور مریدکے پر بھی حملہ کر دیا تو باقاعدہ جنگ ناگزیر ہو چکی تھی۔ عام تاثر کے برعکس پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بہت گہری اور غلطیوں سے پاک منصوبہ بندی کر چکی تھی۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔ بھارت نے 12 فضائی اڈوں سے 80 طیارے فضا میں بھیجے جن میں 32 رافیل، 30 ایس یو۔30 (براہموس میزائلوں سے لیس) اور مختلف مگ طیارے شامل تھے۔ جواباً پاکستان نے 40 جے 10 سی اور دیگر چینی ساختہ لڑاکا طیارے بلند کیے۔ بھارتی طیاروں نے کئی بار پاکستانی فضائی حدود میں داخلے کی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔ جب آزاد جموں و کشمیر اور شیخوپورہ میں شہری تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا تو پاکستان نے ایکشن کا آغاز کیا، تین رافیل، ایک مگ 29 اور ایک سخوئی 30 کو مار گرایا۔ اس جھڑپ کے بعد بھارتی ایئر فورس اس قدر خوفزدہ ہوئی کہ ہر طرح کے لڑاکا طیارے گراؤنڈ کر دئیے گئے۔ پاک فضائیہ کی جانب سے چلایا جانے والا چینی ساختہ پی ایل 15 میزائل دشمن کے جہازوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوا۔ اگرچہ اس حوالے سے مصدقہ خبریں سامنے آ چکی تھیں لیکن پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت سخت غم و غصہ میں مبتلا تھی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ دشمن کو اسکے علاقے کے اندر گھس کر مارا جائے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مضبوط کیس بن چکا تھا۔
فضائی جنگ میں سخت ہزیمت کے 36 گھنٹوں کے بعد بھارت نے ایک بار پھر حملہ کیا اور اسرائیلی ساخت جدید اور مہنگے ہیروپ ڈرونز لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، اٹک، راولپنڈی، بہاولپور، میانو چھور اور کراچی کی جانب بھیجے، پاکستانی فورسز نے 80 سے زیادہ ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر کے بھارت کا یہ حملہ بھی ناکام بنا دیا۔ اب جوابی کارروائی کے لیے پاکستان کا کیس مضبوط تر ہو چکا تھا۔ پوری قوم اسی انتظار میں تھی۔ جمعہ کی شب بھارت نے نورخان ایئر بیس راولپنڈی سمیت تین مقامات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اب جنگی اصولوں کے مطابق تمام علاقائی و عالمی تقاضے پورے ہو چکے تھے۔ اسلامی روایات کے عین مطابق ہفتہ کی صبح نماز فجر کے بعد فیصلہ کن آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا گیا، پاکستان کے حملے ویسے تو پانچ گھنٹوں تک چلے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلے گھنٹے میں ہی پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا 26 سے زائد ایسی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا جنہیں پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ایس 400 کی تباہی سے بھارت کی فضائی ڈھال ٹوٹ گئی، جس کی قیمت تقریباً 1.5 ارب ڈالر ہے۔ پاکستانی سائبر ماہرین نے بھارت کی درجنوں اہم ویب سائٹس کو ہیک کر لیا۔ بجلی کا نظام معطل کر دیا گیا، براہموس میزائل کا ذخیرہ اڑا دیا گیا۔ پاکستان کے ڈرون نئی دہلی اور گجرات تک جا پہنچے، پورا بھارت محاصرے میں آ گیا، کراچی کے ساحل کے قریب آنے والے بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت کو پاک بحریہ نے پہلے ہی نشانے پر لے رکھا تھا، صرف ایک میزائل فائر ہونے کی دیر تھی کہ بیس ہزار کروڑ بھارتی روپوں کی مالیت والا یہ جہاز 1700 کے عملے، طیاروں اور میزائلوں سمیت سمندر میں غرق ہو جاتا۔
مزید پڑھیں:جنگ یا جھڑپیں
بھارت کو خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ پاکستان کے پاس چینی ساختہ ایئر کرافٹ کیریئر کلر ہائپرسونک میزائل بھی ہو سکتا ہے اس دوران آپریشن بنیان مرصوص میں بھارت کی مکمل شکست کے بعد فیس سیونگ کے لیے امریکہ میدان میں آ گیا، اس سے قبل صدر ٹرمپ، نائب صدر وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو الگ الگ بولیاں بول رہے تھے جس سے بھارت کو شہ مل رہی تھی۔ جنگ میں بڑی کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے طے کر لیا تھا کہ اب اگر بھارت نے پھر کوئی حملہ کیا تو جواباً اسکے ہائی ویلیو ٹارگٹس کو ہٹ کیا جائے گا، بھارت کے معاشی اہداف بھی نشانے پر ہوں گے۔ امریکہ اور انڈیا دونوں اس پیغام کا اصل مفہوم سمجھ گئے۔ بھارت کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کرا دی۔ ورنہ اگلا حملہ بھارت کے تمام بڑے شہروں اور بندرگاہوں پر ہوتا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف ایک پلان کے تحت پہلے ہی بیان جاری کر چکے تھے کہ خدانخواستہ ایٹمی صورتحال بنی تو پھر تماشبین بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے، اس جنگ سے علاقے میں بھارت کی بالا دستی خواب ہمیشہ کے لیے چکنا چور ہو گیا۔ پاکستان نے اپنی دفاعی و فوجی صلاحیت کا لوہا منوا کر ناقابل تسخیر ہونے کا عملی نمونہ پیش کر دیا جو دوست ممالک اور بالخصوص مسلم ملکوں کے لیے بھی بہت طمانیت کا باعث ہے۔ چین کے جنگی ساز وسامان اور ٹیکنالوجی نے یورپ کے ساتھ روس اور اسرائیل کو بھی پچھاڑ دیا۔ یقینا امریکہ اس تشویش میں مبتلا ہو گا کہ ٹیرف کی جنگ، اگر کبھی جنگی تصادم میں بدل گئی تو چین کی پٹاری سے نجانے کیا کچھ برآمد ہو گا، بھارت کا جاہل اور جھوٹا میڈیا اور پی ٹی آئی کے ہمدردوں کا شور شدید تکلیف ظاہر کر رہا ہے کہ پاکستان نے یہ جنگ فیصلہ کن برتری سے جیت لی، اب تو صدر ٹرمپ نے خود تصدیق کر دی ہے پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ بھارت نے سیز فائر کے لیے بھیک مانگی۔ جنگ کے اس نتیجے کے اثرات پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہیں گے، خطے اور عالمی سطح بھی نظر آئیں گے۔ بھارت کی بدترین شکست کا فوری نتیجہ مودی کے اقتدار کی الٹی گنتی کی صورت میں شروع ہو چکا ہے۔