یمن،قتل کے جرم میں قید بھارتی خاتون کو کل دی جانیوالی پھانسی روک دی گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) یمن میں قتل کے جرم میں سزائے موت کا سامنا کررہی بھارتی خاتون کیرل کی نمیشا پریا کی سزا کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت اور سول تنظیمیں ایک نمیشا کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق قتل کے جرم میں یمن کی جیل میں قید کیرل کی نرس نمیشا پریا کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔ببھارتی میڈیا میں ان کی پھانسی کی سزامؤخر ہونے کی خبر اچانک سامنے آئی ہے۔ نمیشا پریا کو 16 جولائی بروز بدھ پھانسی دی جانی تھی لیکن ان کے وکیل نے تصدیق کی کہ یمنی حکام نے آخری لمحات میں یہ فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ یہ خبر بھارت میں خوشی لے کر آئی جہاں حکومت اورسیول تنظیمیں طویل عرصے سے نمیشا کو بچانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔تاہم ابھی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہےجس کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ نمیشا پریا کیرل کے پلککڈ ضلع کے کولینگوڈے کی رہنے والی ہیں۔ انھیں 2017 میں اپنے بزنس پارٹنر طلال عبدو مہدی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔یمنی عدالت کا کہنا ہے کہ نمیشا نے طلال کو بے ہوشی کا انجکشن دے کر قتل کیا اور لاش کے ٹکڑے کر کے پانی کے ٹینک میں پھینک دیے۔ نمیشا نے دعویٰ کیا کہ طلال نے اسے جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کیا اور اس کا پاسپورٹ چھین لیا، جس کی وجہ سے اس نے اپنے دفاع میں یہ قدم اٹھایا۔2020 میں، مقامی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی، جسے 2023 میں سپریم جوڈیشل کونسل نے برقرار رکھا۔ پھانسی ملتوی ہونے کی خبر کے بعد، نمیشا کے شوہر ٹومی تھامس اور والدہ پریما کماری نے سکھ کا سانس لیا ہے۔پریما کماری گزشتہ سال اپریل سے صنعا ءمیں ہیں اور طلال کے اہل خانہ سے معافی مانگنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بلڈ منی (دیت) کے طور پر10 لاکھ ڈالرکی پیشکش کی گئی تھی، لیکن طلال کےخاندان نے اسے قبول نہیں کیا. بھارتی حکومت نے سفارتی سطح پر بھی مداخلت کی اور سپریم کورٹ نے 14 جولائی کو کیس کی سماعت کے دوران مرکز سے ہر ممکن اقدامات کرنے کو کہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دادی یا نانی کی خدمات حاصل کرنے کیلئے ’’اوکے گرینڈ ما‘‘ سروس کا آغاز