پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ علیمہ خان پر برس پڑے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ علیمہ خان پر برس پڑے ۔
سلمان اکرم راجا نے آج صاف کہہ دیا کہ میں استعفی دینے کو تیار ہوں ۔ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر اکٹھا ہونے کی کال دی تھی، ان کی توقع مطابق لوگ نہیں آئے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا، علیمہ خان کو سوچنا ہو گا کہ ان کے کہنے پر لوگ نہیں آئے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل نے کہا، خود گاڑیوں میں بھر بھر کر لوگ لانے سے انقلاب نہیں آتا ۔انہوں نے کہا، علیمہ خان کو اپنے بھائی سے بہت محبت ہو گی مگر وہ سیاسی لائحہ عمل نہیں دے سکتیں ۔ ہمارا سیاسی لائحہ عمل اب میں خود دوں گا اور محمود خان اچکزئی دیں گے ۔سیاسی لوگ ہی سیاسی فیصلے کریں گے۔ امن کا کردار ادا کرنا پاکستان کا فرض تھا علیمہ خان نے جو باتیں کی مجھے ان سے شدید اختلاف ہے۔ میں بار بار عہدہ چھوڑنے کو تیار ہوں مگر بانی پی ٹی آئی نے مجھے اس عہدے پر بٹھایا۔
نو اپریل کا جلسہ بانی نے خود منسوخ کیا
انہوں نے کہا، نو اپریل کا جلسہ منسوخ کرنا ہمارا درست فیصلہ تھا۔ ہمارے بین الاقوامی سفارتکاروں سے رابطے تھے۔ ہم عالمی امن کے لئے ملاقات میں کوئی دھمکی نہیں دے سکتے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا، علیمہ بی بی کے بیان کے بعد شیر افضل مروت، مشال یوسفزی سب ایکٹیو ہوگئے ہیں۔ سلمان صفدر نے بانی کو نو اپریل کے جلسے کا بتایا۔ سلمان صفدر نے کہا بانی پی ٹی آئی نے کہا نو اپریل کا جلسہ ختم کرو۔ بانی پی ٹی آئی نے امن سفارت کاری کو فروغ دینے کو کہا۔ سلمان صفدر نے مجھ سے اور سہیل آفریدی سے ویڈیو لنک پر بات کی۔
بانی پی ٹی آئی نے محمود خان اچکزائی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے کام کو سراہا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے کام کا اختیار بانی کے علاوہ اور کوئی نہیں لے سکتے۔
یہ بھی پڑھیئے: شین وارن کی موت کا ذمہ دار کون ؟ بیٹے کا تہلکہ خیز انکشاف
پی ٹی آئی کے رہنما محمد زبیر نے کہا، اس وقت معاشی حالات نہایت گھمبیر ہیں۔ حکومت کیا کررہی ہے۔ عام آدمی غریب آدمی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بطور اپوزیشن پارٹیز حقیقت عوام کے سامنے لانا ہمارا فرض ہے ۔ ایران امریکہ جنگ سے ہمیں اندازہ تھا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ ہمیں علم تھا کہ حکومت کو تمام معاملات سنبھالنے میں مشکات ہوگی۔ حکومت نے اس صورتحال میں مافیا کو فائدہ پہنچایا۔ مارچ مین پٹرول کی قیمت کے بڑھنے سے مافیا کو اربوں کا فائدہ پہنچا۔ ان کے پاس پٹرول پرانی قیمت میں دستیاب تھا۔ اس مافیا نے ساٹھ سے پینسٹھ ڈالر فی بیرل خرید کر، 80 سے 85 ڈالر فی بیرل فروخت کیا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا، آج 78 سال گزرنے پر ایک فیکٹری بھی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، اس وقت کوئی بڑی بین الاقوامی کمپنی ہمارے ملک میں پیسہ لگانے کو تیار نہیں۔ ہم بطور اپوزیشن آواز اٹھاتے رہیں گے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا، امریکہ ایران کا معاہدہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کے اس رول میں ہمیں قدرت نے موقع فراہم کیا