مستقل قریب میں ایران، امریکہ جنگ ہوتی دکھائی نہیں دے رہی:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ مجھے مستقل قریب میں ایران، امریکہ جنگ ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے، امریکی تھنک ٹینکس نے صدر کو سفارتکاری سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔
24 نیوز کے مقبول پروگرام ’’دی سلیم بخاری شو‘‘ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکی تھنک ٹینک نے صدر ٹرمپ کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ڈپلومیسی کو پہلے آپشن کے طور پر دیکھا جائے، معاملات کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کریں جنگ تو جب ہونی ہے وہ تو ہوجائیگی، اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ میں ایک سوچ بن رہی ہے کہ جنگ ایک آپشن نہیں ہے، انہوں نے اس کو بہت بڑی ڈیولپمنٹ قرار دیا۔
انہوں کہا کہ جیسے یہ کہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے ، اسی طرح امریکیوں کو کیوں چھوڑ دیا جائے کیا وہ صرف وہ ہی انسان ہیں جو غزہ میں شہادتیں ہوئی ہیں جو بچے بھوک کی وجہ سے بلک بلک کر مر گئے کیا وہ انسان نہیں تھے۔
سلیم بخاری نے مشورہ دیا کہ ان کو بلکل نہیں جانے دینا چاہئے بلکہ ان کو یرغمال بنانا چاہئے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ غیر انسانی رویہ ہے تو پھر کیا جو شہادتیں ہوئی ہیں کیا وہ انسانی رویہ تھا، ان کو ہر رعایت کیوں دی جائے، ایران کو قطر کو وارننگ دینی چاہئے کہ اگر قطر کے ایر بیس استعمال ہوئے تو اپ پر بھی حملہ کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ملکوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا، اس اقدام کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، اس پر بخاری صاحب نے کہا کہ ایران پہلے ہی تقریبا چالیس سال سے اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے ۔ایران نے خود انحصاری کی پالیسی کی بدولت اپنے اپ کو نہ صرف قائم و دائم رکھا ہوا بلکہ اپنا دفاع بھی ناقابل تسخیر بنا یا ہے۔ایرانی قوم نے اپنے اپ کو حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے اور اب ایران کو ان پابندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑے بریک تھرو پر باتے کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ تحریک انصا ف کو اس بات کا ادراک ہی نہیں تھا کہ سیاسی معاملہ جات پارلیمنٹ کی چھت کے نیچے ہی طے ہوتے ہیں، سڑکوں کے اوپر نہیں طے ہوتے نہ ہی دوسرے صوبوں کے دوروں او ر جلسے جلوس سے طے ہوتے ہیں۔
تین رکنی وفد گیا نہ اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس اگر پہلے ہی چلے جاتے تو کیا ہوتا، تحریک انصاف کے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی طریقے سے ہی حل کرنا چاہئے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 84منتخب ایم این ایز والی پارٹی کے پاس کوئی ایک بھی ایسا ممبر نہیں جو اپوزیشن لیڈر بن سکے۔کتنا بڑا بحران ہے یہ کیا ثابت کرتا ہے لیکن پھر بھی سپیکر ایاز صادق نے بڑا موقع دیا کہ اپنی پارٹی میں سے سوچ بچار کے بعد کسی کو اپوزیشن لیڈر متفق ہو جائے لیکن بدقسمتی کے آخر کار انہوں نے اپوزیشن کو کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے لیے اپنی تجاویز کل بروز منگل، 13 جنوری، 3 بجے تک جمع کروائے۔
آئی سی سی کے بی سی بی کو خط کے حوالے سے سلیم بخاری نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی سازش کی جا رہی ہے کہ بنگلا دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کر دیا جائے، اس سازش میں ہندوستان اور آئی سی سی شامل ہیں۔ بھارت یہ چاہتا ہے کہ بنگلا دیش کو باہر کر کے کسی اور ٹیم کو شامل کر لیا جائے،آئی سی سی میں بھارت کی اجارہ داری ہے اس لیے آئی سی سی انٹر نیشل کرکٹ کی بجائے بھارتی ادارہ زیادہ لگ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
بے شک بنگلا دیش اور آئی سی سی کے درمیان ویڈیو کانفرنس بھی ہوئی جوکہ بے نتیجہ رہی۔بی سی بی کا کہنا ہے کہ ویڈیو کانفرنس میں بنگلادیش نے ایک بار پھر اپنے میچز بھارت سے منتقل کرنے کا مؤقف دہرایا۔ تاہم آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کا شیڈول پہلے ہی طے ہوچکا ہے۔
بی سی بی کے مطابق آئی سی سی نے بی سی بی سے اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے کی درخواست کی لیکن بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے مؤقف اور فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔اب دیکھتے ہیں کہ کیا بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے یا پھر کوئی مثبت راستہ نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صحافی ارشد شریف قتل کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر