چھ سال قبل اغوا ہونیوالی خاتون کی بازیابی کا کیس سماعت کیلئے مقرر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)کاہنہ کے علاقے سے چھ سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی کے متعلق اہم کیس لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کیس کی سماعت کریں گی ، عدالت نے آئی جی کو مغوی کو بازیاب کروا کر پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے ۔
لاہور ہائیکورٹ میں کاہنہ کے علاقے سے چھ سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی سے متعلق اہم کیس 18 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا،، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم درخواست گزار سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کریں گی۔درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ اس کی بیٹی فوزیہ بی بی کے اغوا کا مقدمہ 25 مئی 2019 کو تھانہ کاہنہ میں درج کرایا گیا تھا، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک بازیابی ممکن نہیں ہو سکی۔ مقدمے میں خاتون کے شوہر اور ساس کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
عدالت نے گزشتہ سماعت پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو حکم دیا تھا کہ مغوی خاتون کی بازیابی 18 ستمبر تک یقینی بنائی جائے۔ عدالت نے اس سے قبل پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا تھا۔آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں 9 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی ہے جس میں سپیشل برانچ، سی سی ڈی، انویسٹیگیشن، آپریشن اور آئی بی کے افسران شامل ہیں۔ اس کیس میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان اور ڈی آئی جی ذیشان رضا سمیت دیگر اعلیٰ افسران عدالت میں پیش ہوچکے ہیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے گمشدہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے "میرا پیارا" ایپ کو فعال کرنے کا حکم بھی جاری کیا تھا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔دلچسپ طور پر، درخواست گزار خاتون نے اپنے بیان میں یہ مؤقف بھی اپنایا کہ اس کی بیٹی کو "جن" اٹھا کر لے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد سے دبئی کیلئے پرواز بھرنے والے طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، ایئرپورٹ انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں