28 درندے بے نقاب۔۔والد، رشتے دار اور مشہور سیاستدانوں کا17سالہ لڑکی سے ریپ

Oct 13, 2021 | 13:01:PM
نابالغ، خاتون، زیادتی
کیپشن: خاتون سے زیادتی(علامتی تصویر)

(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی ریاست اترپردیش کے ضلع للت پور میں ایک نابالغ لڑکی نے ضلع کے 28 لوگوں پر عصمت دری کا الزام لگایا جس کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا۔ جن لوگوں پر عصمت دری کے سنگین الزامات لگے ہیں ان میں نابالغ لڑکی کے والد ، رشتہ داروں کے ساتھ کئی مشہور سیاستدانوں کے نام بھی شامل ہیں۔ پولیس نے سب کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

بھارتی نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق  للت پور کی رہائشی ایک 17 سالہ نابالغ لڑکی کا پہلے باپ نے 6 سال تک ریپ کیا ، اس کے بعد رشتہ داروں نے بھی اسے ہوس کا شکار بنایا ، صرف بس  اتنا نہیں بلکہ  باپ نہ رکا اور بیٹی کو پیسوں کے لئے ہوٹلوں میں بھیج کر جسم فروشی کا دھندہ کروانے لگا۔ بالآخر لڑکی نے ہمت کی اور اپنی ماں کے ساتھ جاکر پولیس سے شکایت کی۔ضلع للت پور کے صدر کوتوالی علاقے میں رہنے والی ایک نابالغ لڑکی نے اپنے والد اور خاندان کے کئی افراد پر اسے جسم فروشی کے دھندے میں دھکیلنے کا الزام لگایا تو اس وقت علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ اس معاملے کے منظر عام پر آتے ہی لوگ حیران رہ گئے۔ یہ الزام للت پور کی سیاسی شخصیات پر بھی تھا اس کو لیکر اس معاملے کی بڑے پیمانے پر چرچا ہو رہی ہے ۔پولیس نے تاخیر کے بغیر ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ لڑکی کے مطابق جب وہ چھٹی کلاس میں پڑھتی تھی۔ اس کے والد اور رشتہ داروں نے اس کے ساتھ غلط رویہ شروع کر دیا تھا۔ کئی بار اس نے اس کی مخالفت کی جس پر اسے مارا پیٹا بھی جاتا تھا۔ اسے نشیلی گولیاں کھلا کر ہوس کا شکار بنایا گیا۔کچھ دن پہلے متاثرہ لڑکی کو ایک نوجوان  آکاش موٹر سائیکل پر مادھو نگری لے گیا جہا ں اجئے سرنکر، سندیپ پانڈھرے جمال نامی نوجوان پہلے سے موجود تھے۔ آکاش نے تینوں سے پیسے وصول کئے اور لڑکی کو حیوانوں کے حوالےکردیا اور ایسا دو بارکیا۔متاثرہ نے الزام لگایا کہ اس کے والد اور رشتہ داروں نے اس کا ریپ کیا۔ کئی سیاستدانوں سمیت 28 لوگوں نے اس کا ریپ کیا۔ الزام ہے کہ اسے 4-5 سال تک یرغمال بنا کر اس کا جنسی استحصال کیا گیا۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ کسی طرح اس نے ہمت دکھا کر پولیس افسران سے شکایت کی اور اس کے بعد اسے اس دھندہ سے آزاد کرایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شکایت کی بنیاد پر پولیس نے 28 لوگوں جن میں تلک یادو ، راجو یادو ، مہندر یادو ، اروند یادو ، پربودھ تیواری ، سونو سمیا ، راجیش جین ، مہندر دوبے ، نیرج تیواری ، مہندر سنگھائی ، دیپک اہیرور ، کوملکانت سنگھائی ، چچا سمیت اور رشتہ داروں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے لڑکی کی حفاظت کے لیے فورس تعینات کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اتنا غصہ۔۔خاتون فارماسسٹ پر بے تحاشہ تشدد، حاضری نہ لگانے دی، ویڈیو وائرل