میر رضا کیس،بزنس پارٹنر احمد  بھردے  پھر طلب

Sep 17, 2026 | 14:18:PM
 میر رضا کیس،بزنس پارٹنر احمد  بھردے  پھر طلب
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) میر رضا قتل کیس میں عدالت نے ان کے پارٹنر احمد بھردے کو پھر طلب کر لیا ہے ۔

جوڈیشل  کمیشن کے سربراہ جسٹس عمرسیال نے انکے بز نس پارٹنر احمد بھر دے کو  طلب کیا۔

میر رضا کے بز نس پارٹنر  احمد بھر دے کو کمیشن کی جانب سے اس لئے طلب کیا گیاکہ اگر وہ کیس کےبارے کچھ کہنا چا ہتے ہیں تو انکو موقع دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے احمد  بھردے کو دوبارہ طلبی کا  نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر احمد بھردے اس کیس کے سلسلے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو انہیں پورا موقع فراہم کیا جائے گا۔

کمیشن نے احمد  بھردے اور ان کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے آج ہی کمیشن کے روبرو پیش ہوں۔

مزید پڑھیں:خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو بیوی حق مہر میں جائیداد پاس رکھ سکتی ہے؟

کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے کمیشن نے کیس کے پہلے تفتیشی افسر شبیر لغاری کو بھی طلب کر لیا ، جبکہ نجی ادارے ‘وافلیکس’ کے اکاؤنٹنٹ عمیر کو بھی آج ہی اپنا بیان قلمبند کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لئے قائم کمیشن کے سامنے ان کے بزنس پارٹنر احمد بھردے نے بیان ریکارڈ کرایا تھا ، تاہم کمیشن نے ان کے بعض جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیان پر مکمل یقین نہیں ہے۔

احمد بھردے نے بتایا تھا کہ میر رضا اپنے والد کے قرضوں کے باعث مالی دباؤ کا شکار تھے، گزشتہ برس خاندان کے مالی مسائل شروع ہوئے اور  والد کی جانب سے منگوایا گیا ایک کنٹینر غائب ہوگیا جبکہ والدہ نے زیورات بھی فروخت کیے تھے۔

احمد بھر دے کا مزید کہنا تھا کہ میر رضا نے والد کے قرض کے حوالے سے لوگوں کی جانب سے گھر آکر مطالبات کرنے کا بھی ذکر کیا تھا۔

احمد بھر دے نے بتایا  کہ میر رضا کے قرض خواہوں میں حسن تنولی سمیت 2 افراد نے ان سے رابطہ کیا تھا، ان کے مطابق اسد علی کے میر رضا کو 25 لاکھ جبکہ حسن تنولی کے 50 لاکھ روپے واجب الادا تھے۔

احمد بھر دے نے  مزید بتایا  کہ میر رضا کی گمشدگی کے روز دوپہر میں حسن تنولی نے بھی فون کیا تھا، جبکہ اسد علی بٹ اور مجتبیٰ نے بھی رابطہ کیا۔