پاکستان کسان اتحاد نے وفاقی بجٹ کو مسترد کر دیا

Jun 13, 2026 | 19:29:PM
پاکستان کسان اتحاد نے وفاقی بجٹ کو مسترد کر دیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(شہزاد ابدالی ) پاکستان کسان اتحاد نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بجٹ میں زراعت اور کسانوں کو نظر انداز کیا گیا، جس سے کاشتکاروں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔

پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کسان اور زراعت کا ذکر تک نہیں کیا، جو ملک کے زرعی شعبے اور کاشتکار برادری کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور کسان کو نظر انداز کرنا درحقیقت ملکی معاشی ترقی کو نظر انداز کرنے کے برابر ہے۔

خالد حسین باٹھ کا کہنا تھا کہ کسانوں کو امید تھی کہ بجٹ میں زرعی پیداوار کے لیے ضروری پانچ بنیادی مداخل، جن میں کھاد، پیسٹی سائیڈز، بیج، ڈیزل اور بجلی شامل ہیں، پر ریلیف دیا جائے گا، تاہم ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت 30 جون تک کھادوں اور ڈیزل پر سبسڈی سمیت کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کرے، بصورت دیگر ملک بھر کے کسان احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

چیئرمین کسان اتحاد نے کہا کہ کسان مالی سال 2027 میں ملکی ترقی کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ زرعی شعبے کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسان اتحاد زرعی شعبے میں موجود کرپشن اور مافیا کے کردار کو بے نقاب کرے گا اور کسانوں کے حقوق کے حصول کے لیے ہر آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا۔

خالد حسین باٹھ نے خبردار کیا کہ اگر 30 جون تک کسانوں کے لیے مؤثر اور بھاری ریلیف کا اعلان نہ کیا گیا تو ملک بھر کے کسان سڑکوں پر نکلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2027 کسانوں اور زراعت کی ترقی کا سال ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت زرعی شعبے کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھیں :سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن کس طرح بڑھے گی؟