فواد حسن فواد نے 30 کروڑ ڈالر کی چینی درآمد کرنے پر سوالات اٹھا دیئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے حکومت کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر کی چینی برآمد کے بعد پھر سے درآمد کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھا دیئے۔
فواد حسن فواد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ چینی کی 30 کروڑ ڈالر کی درآمد عوامی مفاد میں نہیں لہٰذا اس کا فوراً جائزہ لیا جائے، عام آدمی چینی کا بڑا صارف نہیں بلکہ اصل فائدہ خوراک و مشروبات کی صنعت کو ہے۔
سابق پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ پہلے چینی کی برآمد کی اجازت دی اور اب صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے درآمد؟ فی کس چینی کا استعمال سالانہ 28 کلو گرام ہے اصل مسئلہ مافیا کا کردار ہے، یہ انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے قیمتی زرمبادلہ اس پر خرچ کیوں کیا جا رہا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی قیمتوں پر کنٹرول میں ناکامی درآمد کی دلیل نہیں بن سکتی، عام آدمی نہ مشروبات خرید سکتا ہے اور نہ مٹھائیاں پھر ان کے نام پر درآمد کیوں؟ برآمد کی اجازت دینے پر کیا کوئی جواب دہ ہوگا؟
Price control is an essential government function and its failure to do that can’t become a justification. Why doesn’t the government focus on the core issue? The role of sugar industry, the middle men and the traders in the price hike is what needs a probe not more import.
— Fawad Hasan Fawad (@fawadhasanpk) July 13, 2025
فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ چینی مافیا، بروکرز اور ذخیرہ اندوزی کی تحقیقات کب ہوں گی؟ کیا ایف بی آر نے پچھلے 5 سال میں چینی کی صنعت کے منافع پر ٹیکس لیا؟ ایف بی آر صرف شوگر سیکٹر کے منافع پر 35 فیصد ٹیکس لے تو خسارہ کم ہو سکتا ہے۔
BTW what happened to those who allowed exports? And yes where is FBR? If it can just focus on profits made by the sugar industry chain in last 5 years and get its 35% tax on those profits alone, it can bridge some major gaps in tax income. #NoSugarImportsafterexports.
— Fawad Hasan Fawad (@fawadhasanpk) July 13, 2025
واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی کابینہ نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ وزارت غذائی تحفظ نے کہا کہ پانچ لاکھ ٹن شوگر درآمد کرنے کا فیصلہ حتمی طور پر ہوگیا ہے اور درآمد حکومتی شعبے کے ذریعے کی جائے گی۔
وزارت کا کہنا تھا کہ درآمد کیلیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور اس پر فوری عمل درآمد شروع کیا جا رہا ہے، یہ اقدام قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کیلیے اٹھایا گیا ہے۔
وزارت غذائی تحفظ کے مطابق درآمد کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ ماضی کی حکومتوں سے مختلف اور واضح طور پر بہتر حکمت عملی کی نمائندگی کرتا ہے، ماضی میں اکثر اس کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قومی خزانے پر بوجھ ڈال کر سبسڈی پر انحصار کیا جاتا تھا۔
وزارت نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے چینی برآمد کرنے کا فیصلہ اُس وقت کیا تھا جب چینی وافر مقدار میں دستیاب تھی، لیکن اب چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے چینی درآمد کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انجری کا شکار حارث رؤف سے اہم خبر