ہر چالیس سیکنڈ بعد دنیا میں ایک شخص خودکشی کرتا ہے:ماہر نفسیات ڈاکٹر کاشف فراز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ماہر نفسیات اور ماہر تعلیم ڈاکٹر کاشف فراز نے کہا کہ ہر چالیس سیکنڈ بعد دنیا میں ایک شخص خودکشی کرتا ہے ۔
مارننگ ود فضا میں ماہر نفسیات اور ماہر تعلیم ڈاکٹر کاشف فراز نے یونیورسٹی میں بچوں کی خود کشی کی وجوہات اور عوامل پر گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ خود کشی کرنے والا معاشرے سے کٹ کر خودکشی نہیں کررہا ہوتا ، خود کشی حرام ہے مگر اگر کسی غریب کے گھر میں غذا یا دوا نہ ہو اور بچے باپ کو حسرت سے دیکھ رہے ہوں ،کرائے کے مکان میں بجلی کا بل ادا کرنے کی پریشانی ہو ،مزدوری کے باوجود مہنگائی کی چکی میں پستا باپ اور اسکے بچے کس ذہنی اذیت میں ہو تو خودکشی حرام ہے یا حلال یہ نہیں سوچا جاتا ۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر کاشف فراز نے کہا کہ ہر چالیس سیکنڈ کے بعد دنیا میں ایک شخص خود کشی کرتا ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 2019 میں پاکستان کا 189 ملکوں کی فہرست میں 169 نمبر تھا لیکن آج ہم خودکشی کے حوالے سے 72ویں نمبر پر ہیں ، خود کشی پر بات کرنا معیوب ہے۔
لیکن خود کشی کیوں ہوتی ہے? اس حوالے سے ڈاکٹر کاشف فراز نے کہا کہ خودکشی ایک طویل ذہنی جنگ ہے ، والدین لڑائی جھگڑا کرتے ہیں اور وہ بچوں کی ذہنی کیفیت کو مانتے ہی نہیں ، کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خود کشی پر آمادہ ہے ، وہ بچے جو کہیں کہ زندگی سے موت اچھی ہے ، اپنی چیزوں کا سمیٹ رہے ہوں ، مایوسی میں گھرے ہوں ، الوداعی ملاقات کے انداز میں باتیں کر رہے ہوں ، جو اچانک تنہا ہو جائیں ، سوشل تعلق ، ہنسی مذاق ختم کر دیں انہیں سننا ضروری ہے۔
ماہر نفسیات نے کہا کہ یورپ میں ٹرپل نائن پر کال پر وہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کی بات سنی جائے، جب انہیں سنیں گے تو ان کا ذہن ہلکا ہوگا ، جبکہ ہمارے معاشرے میں والدین گھر میں بچوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں ، فیملی میں تعلیمی ادارے میں اس کو بات نہیں کرنے دی جاتی ، پھر وہ بچے سوشل میڈیا پر مایوسی کی تحریریں لگاتے ہیں اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں ، کوئی ایک رونے کے لئے اپنا کندھا آپ کو پیش کر دے وہ ہی آپ کو خود کشی سے بچا سکتا ہے
پروگرام کے دوران میزبان فضا نے ایک واقعہ سنایا کہ 15 برس کا بچہ دیواروں سے سر مارتا ہے اور خود کشی کے متعلق سوچتا ہے کیونکہ اسکے باپ نے اُسے ڈس اون کر دیا ہے ، وہ جذباتی ہوجاتا ہے کہ باپ کی کمائی سے روٹی بھی نہیں کھائے گا ۔
ڈاکٹر کاشف فراز نے کہا کہ بچہ دس برس کی عمر سے ہی حساس سوچ کا حامل ہوتا ہے ، جب اُسے بچہ سمجھ کر نظر انداز کیا جائے گا تو وہ ذہنی اذیت کا شکار ہو گا ، بچوں کے منفی خیالات کو دیکھنا ضروری ہے ، جو باتیں بچے سوشل میڈیا پر کرتے ہیں وہ والدین کے سامنے کیوں نہیں کرتے یہ بڑا سوالیہ نشان ہے ، جین ذی ہماری نسل سے کہیں زیادہ تیز اور حساس ہے ، اسکا مطلب ہے کہ ہم نے گھر میں اُسے وہ ماحول نہیں دیا جہاں اُسے بات کہنے کی آزادی ہو ۔
ڈاکٹر کاشف فراز نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ رپورٹ کرنے پر سٹوڈنٹس کو ہی سزا دی جاتی ہے ، لڑکی کا نو کہنا اتنا مشکل کیوں ہو جاتا ہے ، اگر وہ شکایت کرتے ہیں تو انہیں انصاف نہیں ملتا ، بچہ یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ اسکے جذبات مجروح ہوئے ، کچھ یونیورسٹیز میں اساتذہ کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ،ہوسٹل اور مدرسوں کے کمروں میں کیا ہوتا ہے ، دنیا میں صرف 36 ملک ہیں جنہوں نے خودکشی سے بچانے کیلئے حکمت عملی بنائی ہے ۔
ماہر نفسیات نے کہا کہ کچھ ایسی خود کشیاں بھی ہیں جو مراعات یافتہ لوگوں اور سی ایس پی آفیسرز نے کی گذشتہ دنوں ایس ایس پی اسلام آباد عدیل اکبر نے خود کشی کی ، ابرار حسین نیکو کارہ ، بلال پاشا ، ڈی سی گوجرانوالہ سہیل ٹیپو نے خود کشی کی ، خاموش لاگ زیادہ خطرناک صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں ، فنکشنل ڈپریشن میں آپ ہنستے کھیلتے ، باتیں کرتے ، ناچتے گاتے ہیں لیکن اچانک خود کشی کر لیتے ہیں ۔