موبائل فون بچوں کو ’’زومبی‘‘ بنا رہا ہے: ماہر تعلیم رائد افضل کی مارننگ ود فضا میں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )جن بچوں کو آٹزم ہے ، بچہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ رہا ، بات نہیں کرتا ، جو بولا جائے وہی الفاظ دھراتا ہے تو یہ بچوں کو آٹزم ہے، موبائل فون بچوں کو زومبی بنا رہا ہے۔
پاکستان میں آٹزم اتنا شدید ہو گیا ہے کہ تشویش کی بات ہے مارننگ وِ د فضا میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر تعلیم رائید افضل نے کہا کہ موبائل فون نے تین سال کے بچوں کو بھی آٹزم میں مبتلا کر دیا ہے جس کے بارے میں نہ ڈاکٹر سمجھ رہے ہیں اور نہ ہی والدین ، انہوں نے کہا کہ ریسٹورینٹ میں بچے کھیلتے ہیں مگر ، ریسٹورینٹ میں بھی بچہ موبائل پر مصروف ہے، پارک میں بھی بچہ موبائل پر متوجہ ہے۔
چھوٹے بچوں کو موبائل پکڑ کر مائیں بچوں کے ذہن تباہ کر رہی ہیں ، چھوٹے بچوں کو فون پکڑا کر بھول جاتے ہیں اگر دس منٹ سے زیادہ بچے نے فون پکڑنا ایسے ہی ہے جیسے اسے چرس بھرا سگریٹ دے دیا جائے ، جو موبائل کے استعمال کا بچے کے ذہن پر اثر کر رہا ہے وہ اس سے بھی تباہ کن ہے، بچوں کی عملیت اور ذہنی صلاحیت تباہ ہو رہی ہے، ہمارے بچو ں سے اُٹھا ہی نہیں جا رہا ، بچے زومبی ہوتے جا رہے ہیں ۔
مزید پڑھیں:’’نورِ سحر‘‘میں’’سیرتِ امام جعفر صادق علیہ السلام‘‘ پربصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد
فضا نے سوال کیا کہ بچوں کی انگلش بھی بدل گئی ہے ، بچوں کی کمیونیکیشن تباہ ہو گئی ہے اتنے کیسز آ رہے ہیں کہ بچہ اپنے والدین سے بھی بات نہیں کر رہا وہ ورچوئل ماحول کا عادی ہو گیا ہے ،اسکو سامنے کے لوگ سمجھ نہیں آ رہے وہ ہائپر ایکٹو موومنٹس کا عادی ہے ، اسے گرافکس ، کلرز دھماکے پسند ہیں ، چھوٹے بچوں کو موبائل پکڑا نے سے اسکی انگریزی بہتر نہیں ہو رہی بلکہ اسکا شدید نقصان ہو رہا ہے۔
رائید افضل نے ایک ٹیسٹ بتا یا کہ بچے کو کہیں کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے اگر بچہ نہ دیکھ سکے تو اس پر موبائل کی ایڈیکشن ہے یا وہ اپنی باڈی کو غیر معمولی طور پر حرکت دیتا ہے ، بچہ سامنے بیٹھا ہے اس سے باتیں کریں یا کہانی سنائیں ، اگر بچہ بے چین ہو کر موبائل مانگے تو سمجھیں وہ سکرین کا عادی ہو گیا ہے ۔
بچہ انسان سے بات نہیں کرنا چاہتا وہ سکرین کا عادی ہو گیا ہے جو انتہا ئی تشویشناک بات ہے ، والدین کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہئے اور بچوں کو موبائل سے بچا کر انکی تربیت کرنی ہو گی۔