رواں سال شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں آجائیگا، وزیر خزانہ نے قائمہ کمیٹی کو خوشخبری سنا دی

آئندہ بجٹ میں 312 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں،محمد اورنگزیب کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ

Jun 12, 2025 | 19:13:PM
رواں سال شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں آجائیگا، وزیر خزانہ نے قائمہ کمیٹی کو خوشخبری سنا دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(وقاص عظیم) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ رواں سال شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں آجائیگا، آئندہ بجٹ میں 312 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں،رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مثبت رہے گا ،پی آئی اے ، روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کی جائیگی،حکومت نے ٹیرف، ٹیکس نظام، توانائی، پنشن اور نج کاری شعبے میں بنیادی اور کلیدی اصلاحات کیں۔

تفصیلات کے مطابق سید نوید قمر کی زیر صدارت ہونیوالے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کےاجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے شرح سود کو  کم کرنے کی خوشخبری سنائی، انہوں  نے کہا کہ  گزشتہ برس شرح سود 22 فیصد تھی،شرح سود کو کم کرنے کی گنجائش ہے، رواں سال شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں آجائے گا، مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گا ،گذشتہ برس آئی ایم ایف پروگرام کیلئے معاشی اصلاحات  کی بنیاد رکھی گئی،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مثبت ہونا شروع ہو چکا تھا ،رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مثبت رہے گا ،رواں سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالرز تک پہنچ جائیں گی ،معاشی اصلاحات پر عملدرآمد شروع کیا گیا ہے،عالمی ادارے پاکستان کی معیشت کی تعریف کر رہے ہیں،4 ہزار سے زیادہ ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی کم کی گئی، پراپرٹی سیکٹر پر ٹرانزیکشنز ٹیکسز کمکیے گئے ہیں ،کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے مورگیج شروع کر رہے ہیں ،فرٹیلائزرز اور اسپرے پر ٹیکس نہیں لگایا گیا،آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق تھا کہ فرٹیلائزرز اور اسپرے پر ٹیکس لگایا جائے، وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کاشتکاروں کو سپورٹ کیا جائے،نجکاری کا پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ،پی آئی اے ، روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کی جائیگی ،آئندہ بجٹ میں 312 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیںآئی ایم ایف نے انفورسمنٹ اقدامات کو تسلیم کیا ہے رواں سال 389 ارب روپے کے ٹیکسز انفورسمنٹ کے ذریعے اکٹھے کیے گئے ۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت نے پچھلے سال افراط زر کو23.4  فیصد سے 4.6 فیصد تک کم کیا،شرح سود 22 فیصد کی ریکارڈ بلند سطح سے 11 فیصد کی سطح پر آ گئی، وملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی دفعہ 400 ارب ڈالر کی حد کراس کر گیا،پچھلے سال کی نسبت جی ڈی میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا، ایف بی آر کے محصولات میں 26 فیصد اضافہ ہوا، معیشت کے اعتبار سے ملکی قرضوں میں کمی ہوئی،پہلی دفعہ نہ صرفبروقت قرض ادائیگی کی بلکہ ایک ٹریلین روپے قرض مدت سے قبل ادا کیا، ترسیلات زر اس سال 38 ارب ڈالر تک ہوں گی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیبپچھلے دو سالوں میں ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا، ملکی ایکسچینج ریٹ سال بھر مستحکم رہا، زرمبادلہ کے ذخائر 9.4  ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.5 ارب ڈالر ہو گئے،پرائمری سرپلس معیشت کے تین فیصد کر برابر ہو گیاجو پچھلے 20 سالوں کی بلند ترین سطح ہے،پچھلے سال کے 1.3 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کی نسبت اس سال کرنٹ اکاؤنٹ 1.9 ارب ڈالر سرپلس ہے، ملکی برآمدات میں تقریباً 7 فیصد،آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد کااضافہ ہوا، ان تمام معاشی کامیابیوں، حاصل شدہ اہداف کو عالمی مالیاتی اداروں، سروے کمپنیوں، ریٹنگ ایجنسیوں نے تسلیم کیا، فچ اور دیگر ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا، محض معیشت میں بہتری منزل نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی منزل کے حصول کا راستہ ہے،  ہم اس راستے پر عزم اور یقین سے جمے رہیں گے۔

قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا  ایک دیرپااور پائیدار معاشی خوشحالی کا خواب پورا کریں گے،حکومت نے ٹیرف، ٹیکس نظام، توانائی، پنشن اور نج کاری شعبے میں بنیادی اور کلیدی اصلاحات کیں، 

اپوزیشن کے ڈھونڈورے کے باوجود سال بھر میں کوئی منی بجٹ نہیں آیا،ہم نے ٹیکس بنیادوں کو وسعت دی، انفورسمنٹ،کمپلائنس سے ٹیکس لیکجز کو کم کیا،تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا،کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس میں کمی گئی، تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا گیا، متوسط طبقے کو گھروں کی تعمیر کے لیے سستے قرضے دیں گے، زراعت پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، چھوٹے کاروباروں کو فناسنگ سپورٹ دی،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کیا جس سے ایک کروڑ سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے، ٹیرف اور خام مال کی ڈیوٹیوں میں کمی کے ذریعے ایکسپورٹرز کو فائدہ پہنچا کربرآمدات بڑھائی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر  کے حل کی کوشش،انتہاپسند ہندو سیخ پا، امریکی پرچم کی بے حرمتی کر ڈالی