خالدہ ضیا کی صحت گردے ناکارہ ہونے کے بعد مزید تشویشناک، وینٹی لیٹر پر منتقل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی صحت انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے اور وہ ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال میں سنگین پیچیدگیوں کے باعث وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج ہیں،میڈیکل بورڈ کے مطابق ان کے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں اور انہیں باقاعدہ ڈائیلاسز کی ضرورت ہےجبکہ متعدد دیگر طبی مسائل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
میڈیکل بورڈ کے نمائندہ پروفیسر ڈاکٹر شہاب الدین تعلقدار نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ خالدہ ضیا کو سانس کی شدید قلت، خون میں آکسیجن کی کمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی سطح جیسے مسائل لاحق ہیں، جن کے لیے انہیں ہائی فلو نزل کینولا اور BiPAP سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے تاہم حالت میں بہتری نہ آنے پر انہیں الیکٹیو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تاکہ پھیپھڑوں اور دیگر اہم اعضا کو آرام مل سکے۔
ڈاکٹرز کے مطابق 27 نومبر کو ان میں شدید لبلبے کی سوزش (Acute Pancreatitis) کی تشخیص ہوئی تھی جو اب بھی انتہائی نگہداشت میں علاج کی متقاضی ہے، شدید انفیکشن کے باعث انہیں طاقتور اینٹی بائیوٹکس اور اینٹی فنگلز دی جا رہی ہیں، اس کے علاوہ انہیں نظامِ ہاضمہ میں خون رسنے اور Disseminated Intravascular Coagulation (DIC) کے سبب مسلسل خون اور اس کے اجزا کی منتقلی کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں بچوں کی پیدائش، ٹرمپ نے بھارتیوں کے خواب چکنا چور کردیئے
طبی ماہرین نے بتایا کہ ایکو ٹیسٹ میں دل کے آورتک والو میں مسائل سامنے آنے پر مزید جانچ کے لیے Transesophageal Echocardiogram (TEE) کیا گیا، جس میں Infective Endocarditis کی تشخیص ہوئی، جس کا علاج عالمی معیارات کے مطابق فوری شروع کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے ملکی و غیر ملکی ماہرین سے بھی مشاورت جاری ہے۔
میڈیکل بورڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خالدہ ضیا کی صحت سے متعلق افواہیں نہ پھیلائیں، کیونکہ ان کی حالت انتہائی نازک ہے اور ڈاکٹرز کی ایک مشترکہ ملکی و بین الاقوامی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر علاج کا جائزہ لے رہی ہے۔
خالدہ ضیا طویل عرصے سے جگر اور گردوں کے مسائل، دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، شوگر، گٹھیا اور انفیکشنز جیسے متعدد دائمی امراض میں مبتلا رہی ہیں، اور طبی صورتحال بگڑنے پر انہیں 23 نومبر کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں وہ اب بھی انتہائی تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہیں۔