امریکاکا بی ایل اےکو دہشتگرد تنظیم قراردینا فیلڈ مارشل کی کاوشوں کا مظہر ہے: سکیورٹی ذرائع

Aug 12, 2025 | 14:07:PM
 امریکاکا بی ایل اےکو دہشتگرد تنظیم قراردینا فیلڈ مارشل کی کاوشوں کا مظہر ہے: سکیورٹی ذرائع
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز )آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ امریکا سے پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ 

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ فیلڈ مارشل کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی سے بھارت کادہشتگردانہ چہرہ عالمی سطح پربے نقاب ہوا، امریکاکا بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیمیں قراردینا فیلڈ مارشل کی کاوشوں کامظہر ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الہندوستان کوعالمی دہشتگرد تنظیم قراردینے سے بھارت کا اصل چہرہ عالمی سطح پر بے نقاب ہوا، حالیہ امریکی فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی عالمی سطح پر توثیق ہے، بھارت کے دہشتگردانہ عزائم ناصرف خطے بالکل عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ 

 یہ بھی پڑھیں:چھٹیاں ہی چھٹیاں،اہم اعلان ہو گیا

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے فتنہ الہندوستان کے ساتھ براہِ راست روابط قائم رکھے، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھارتی ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کا واضح ثبوت ہے جبکہ بھارت نے پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے فتنہ الہندوستان کو مالی امداد فراہم کی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کو اپنے ملک میں علاج کی سہولیات فراہم کیں جب کہ مودی اور اجیت دوول نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے ساتھ اپنے روابط کا برملا اعتراف کیا، گودی میڈیا نے فتنہ الہندوستان کی دہشتگردانہ کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی۔

علاوہ ازیں  پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں غیر متوقع بہتری آئی ہے، جس نے بھارت کو سخت پریشان کر دیا ہے، عالمی شہرت یافتہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے اس سال موسم گرما میں دو بار امریکا کے اعلیٰ سطحی دورے کئے۔ سب سے حالیہ دورہ فلوریڈا کا تھا، جہاں انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا کی ریٹائرمنٹ تقریب میں شرکت کی۔ 

 ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن کے سینیئر تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں یہ پیشرفت حیران کن ہے۔ میں اسے ایک غیر متوقع دوبارہ آغاز بلکہ ایک نیا دور کہوں گا، پاکستان نے اس غیر روایتی صدر سے تعلقات بڑھانے کا فن خوب سمجھ لیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق پاکستان نے یہ کامیابی ایک جامع حکمتِ عملی کے ذریعے حاصل کی ہے، جس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، صدر ٹرمپ کے بزنس نیٹ ورک میں موجود اہم شخصیات تک رسائی، توانائی، معدنی وسائل اور کرپٹو کرنسی سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے لیے مثبت پیغام رسانی پر بھی زور دیا گیا۔

 فنانشل ٹائمز نے ایک بڑی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مارچ میں پاکستان نے داعش-خراسان کے ایک اہم ملزم کو گرفتار کر کے امریکی حکام کے حوالے کیا، جو 2021 کے کابل ایئرپورٹ دھماکے کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس گرفتاری کو اپنے "اسٹیٹ آف دی یونین" خطاب میں پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے سراہا۔

مزید برآں اپریل میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ کرپٹو کرنسی منصوبہ ورلڈ لبرٹی فنانشل اور پاکستان کے کرپٹو کونسل کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس منصوبے کے بانیوں میں سے ایک نے پاکستان کے دورے کے دوران ملک کے وسیع معدنی وسائل کی تعریف کی۔

 رپورٹ کے مطابق بھارت اس تیزی سے بدلتے تعلقات پر سخت برہم ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکا نے بھارت پر درآمدی ٹیرف 50 فیصد کر دیا جبکہ پاکستان کے لیے یہ شرح صرف 19 فیصد رکھی۔ 

 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کے اس بیان کی بھی تردید کی کہ امریکا نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر میں ثالثی کی تھی۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی افواج نے براہ راست بات چیت کے ذریعے طے کیا۔