لاہور ہائیکورٹ؛مختلف نوعیت کے مقدمات کے فوری فیصلے کیلئے ٹائم لائنز مقرر

Sep 11, 2025 | 18:31:PM
لاہور ہائیکورٹ؛مختلف نوعیت کے مقدمات کے فوری فیصلے کیلئے ٹائم لائنز مقرر
کیپشن: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم،فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے بروقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے بڑا فیصلہ کیا ہے، مختلف نوعیت کے مقدمات کے فوری فیصلے کیلئے ٹائم لائنز مقررکر دیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم کاکہنا ہے کہ بروقت انصاف ہی عوام کا بنیادی حق ہے۔

تفصیلات کے مطابق  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے زمین کے تنازعات کے اعلانیہ مقدمات 24 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا، اسی طرح  وراثتی تنازعات کے مقدمات 12 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی، زمین کے تنازعات میں حکم امتناعی کیسز 6 ماہ میں ختم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے  ریکوری سوٹ اور منی میٹرز 12 ماہ میں نمٹانے کی ٹائم لائن مقررکردی،معاہدوں کے نفاذ سے متعلق مقدمات 18 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی، کرائے کے مقدمات 6 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے  فیملی سوٹ (تحلیل، مہر، دیکھ بھال، سرپرستی) 6 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کردی جبکہ جانشینی کے بلا مقابلہ مقدمات صرف 2 ماہ میں مکمل کرنے کی ٹائم لائن مقررکر دی ،فیملی کورٹ کے حکمنامے پر اجرا کی درخواستیں 6 ماہ میں نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے،اسی طرح  بینکنگ کورٹ کی ڈگری پر اجراء کے متعلق  درخواستیں 12 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا، سول کورٹ کی ڈگری پر اجراء کی درخواستیں 12 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے  کرائے کے معاملات میں اجراء کی پٹیشنز پر 3 ماہ میں مکمل کرنے کی ٹائم لائن مقررکردی، نوعمر مجرموں کے ٹرائل ، جیونائل جسٹس ایکٹ کا ٹرائل 6 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی جبکہ  سات سال تک سزا کے مقدمات 12 ماہ میں نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے  سات سال سے زائد تک کے سزا کے مقدمات 18 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی،قتل کے مقدمات کو 24 ماہ میں نمٹانے کی ٹائم لائن مقررکی گئی ہے، لیبر مقدمات  6 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی،تمام ججز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کو ٹائم لائنز پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ:شائقین کرکٹ کیلئے اہم خبر، پاک بھارت میچ کے ٹکٹ کی قیمت میں بڑی کمی