’’پشتو فلموں کے دلیپ کمار‘‘بدرمنیر17سال بعد بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ 

 41 سال تک فلم انڈسٹری پر راج کیاپشتو کے علاوہ چالیس کے قریب اُردو اورکئی پنجابی فلموں میں بھی کام کیا

Oct 11, 2025 | 11:55:AM
’’پشتو فلموں کے دلیپ کمار‘‘بدرمنیر17سال بعد بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)پشتو فلموں کے لیجنڈ اداکار بدر منیرکو مداحوں سے بچھڑے17 برس بیت گئے مگر وہ آج بھی مداحوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔
1938ء کوسوات کے سیاحتی مقام مدین کے نواحی گاؤں شاگرام میں پیداہونے والے بدرمنیر کے والدمولوی یاقوت خان انہیں مذہبی تعلیم سے آراستہ کرنے کے خواہاں تھے،بدرمنیرنے فلموں میں کام سے پہلے کئی چھوٹے موٹے کام کئے،کراچی میں رکشہ بھی چلایاپھراداکار وحید مراد کے دفترمیں بطور ٹی بوائے کام کا موقع ملا۔
جب پشتوکی پہلی فلم”یوسف خان شیر بانو“بنی تواس میں یاسمین خان کے ساتھ ہیروکاکرداران کے حصّے میں آیا،انہوں نے تقریباً 41 سال تک فلم انڈسٹری پر راج کیااور پشتو فلموں کے دلیپ کمار کہلائے لیکن وہ اکثر کہاکرتے تھے کہ میں پشتو فلموں کا بدرمنیر ہوں۔


1970ء میں دولت اورشُہرت کی دیوی بدرمنیر پراس وقت مہربان ہوگئی جب یاسمین خان کے ساتھ ان کی پہلی پشتو فلم”یوسف خان شیربانو“ منظر عام پر آئی جو دونوں کیلئے نیک فال ثابت ہوئی،”یوسف خان شیر بانو“ پٹھانوں کی ایک لوک داستان پر مبنی تھی،جب فلم کی نمائش ہوئی تو عوام نے اسے بے حدپسندکیا،پہلی فلم کی کامیابی کے بعد پشتو فلمسازی میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور بدر منیر کے ہمراہ یاسمین خان کی جوڑی ہٹ ہوگئی۔

بدرمنیر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کراچی کی ایک اردو فلم”جانور“ میں ہیروکاسٹ کیا گیاجو کامیاب نہ ہوسکی،کچھ عرصے کے بعد ہدایت کارممتاز علی خان کی اردو فلم ”دلہن ایک رات کی“میں کام کا موقع ملا جس میں نمی ان کی ہیروئن اورآصف خان ولن تھے۔


بدرمنیراوریاسمین خان کی جوڑی نے70 سے زیادہ فلموں میں ایک ساتھ کام کیا،بدرمنیر کی دیگرپشتو ہیروئنوں میں ثریا خان،شہناز،مسرت شاہین،خانم، نجمی، وحیدہ خان،نادرہ، ممتاز اور نمی شامل تھیں جبکہ اُردو فلموں میں نشو،نیلی، بابرہ شریف، دیبا،چکوری اور روحی بانو کے ساتھ بطور ہیرو اداکاری کے جوہر دکھائے۔
بدرمنیرنے پشتو کے علاوہ چالیس کے قریب اُردو فلموں میں بھی کام کیا،پنجابی فلموں میں اپنے لہجے کی وجہ سے کام کرنے سے گریزاں تھے اس کے باوجود کئی فلمسازوں نے انہیں پنجابی فلموں میں سائن کیا۔
بدرمنیرکی یادگار فلموں میں یوسف خان شیر بانو‘آدم خان درخانئی،اوربل،گرفتار،میرے دور،ٹوپک زما قانون،دپختون شان،رواج، خاندانی بدمعاش، پڑانگ، اقرار، جشن، باڈی گارڈ اور مسافر کے علاوہ سینکڑوں دیگر فلمیں شامل ہیں، ”تین بادشاہ“ ان کی پہلی پنجابی فلم تھی جبکہ مشہور اُردو فلموں میں جہاں برف گرتی ہے،دُلہن ایک رات کی،دشمنی اورچیخ شامل ہیں، پشتو فلم ”دیدن“میں انہوں نے اندھے کا کردار بہت خوب صورتی سے کیاتھا۔
بدرمنیرنے اَن پڑھ ہونے کے باوجود بطور کہانی نویس کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں،فلم”جاگ اُٹھا انسان“ میں ایک انگریز کا کردارکیا تھا،انہوں پشتوکے علاوہ پنجابی،اردو،سندھی اور ایک ہندکو فلم  میں بھی کام کیاتھا۔
انہوں نے 35 سال تک پشتو فلم انڈسٹری پر بلا شرکت غیرے راج کیا اور 408 فلموں میں ٹائٹل رول ادا کئے،اس طویل عرصے میں 65 ہیروئنز کے ساتھ بطور ہیرو کام کیا، 53 ہدایت کاروں نے اپنی فلموں میں کاسٹ کیا سوائے سنگیتا کے تمام خواتین ہدایتکاروں کی فلموں میں آئے۔ 1972ء سے 2007ء تک ہر سال ان کی کوئی نہ کوئی فلم ریلیز ہوتی رہی،ان کی پانچ فلموں نے ڈائمنڈ جوبلی، 14 نے پلاٹینم جوبلی، 40 نے گولڈن جوبلی اور 162نے سلور جوبلی منائی،انہیں فنی خدمات پر لاتعداد اعزازات کے علاوہ حکومت پاکستان سے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بھی ملاجس کے لئے انہیں 2008ء میں نامزدکیاگیاتھالیکن23 مارچ 2009ء کو ان کے لواحقین نے یہ ایوارڈ و صول کیا،اس کے علاوہ بہترین اداکاری پرانہیں آٹھ نگار،گریجویٹ، نورجہاں،بولان اور دیگر لاتعداد ایوارڈزسے بھی نوازاگیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:گلوکار سانول عیسی خیلوی کا عطا اللہ خان عیسی خیلوی کے ہمراہ مشہور گیت " تھیواہ" ریلیز
 بدرمنیر نے آصف خان کے ساتھ200 فلموں میں کام کیا،انہوں نے ساری زندگی ایک مزدور کی طرح کام کیا،جس وقت ان کی پہلی فلم ”یوسف خان شیر بانو“ کی شوٹنگ جاری تھی اس وقت بھی وہ شوٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد گلیوں میں ریڑھی پر چپل بیچا کرتے تھے،بطور ہیرو 435 ٹائٹل کردار کئے،25 فلموں میں مہمان اداکار آئے،52 سینما سکوپ،54 بلیک اینڈ وائٹ تھیں،402 پشتو،31 پنجابی اور ایک انگریزی فلم میں بھی کام کیا،وہ صحیح معنوں میں پشتو فلموں کے بے تاج بادشاہ تھے،”لیونئی“ ان کی آخری فلم بے حد کامیاب رہی۔
 پشتو فلم ”مسافر“ میں ان کے بیٹے دلبر منیر نے ہیرو جبکہ بدر منیر نے مہمان اداکار کا کردار ادا کیاتھا،وہ اپنی فلموں میں دل ہلانے والے خطرناک مناظر خود فلماتے تھے، اداکارہ رانی کے ساتھ ”یوہ ناوے“ میں ہیرو آئے جس نے گولڈن جوبلی منائی۔
بدر منیر چار سال تک فالج کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد11 اکتوبر 2008ء کو جہان فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔