نورسحر میں ''حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ۔۔۔ حیات و تعلیمات''بصیرت افروز نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ خواجہ نظام الدین اولیاء ان اولیائے کاملین میں سے ہیں جنہیں محبوبانِ الٰہی کا مقام حاصل ہوا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف پروگرام نورِ سحر میں ایک بصیرت افروز نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع "حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ۔۔۔ حیات و تعلیمات" تھا۔
میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ خواجہ نظام الدین اولیاء ان اولیائے کاملین میں سے ہیں جنہیں محبوبانِ الٰہی کا مقام حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ صاحب کی زندگی خدمتِ خلق، زہد، تقویٰ اور مخلوق خدا کی محبت سے عبارت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے 700 سے زائد بلند پایہ افراد تیار کیے جنہوں نے امن و محبت کا پیغام چہار دانگ عالم میں پھیلایا، آپ کبھی بادشاہوں کے دربار میں نہیں گئے۔
انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار امیر خسرو نے عرض کیا کہ آپ مسلسل روزے افطار کر کے کھانا نہیں کھاتے، کمزور ہو جائیں گے، تو آپؒ نے فرمایا جب تک میرے شہر کے غریب سیر نہ ہو جائیں، نظام الدین کے گلے سے نوالہ کیسے اتر سکتا ہے؟
پروفیسر فہد علی کاظمی نے چشتیہ سلسلے کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں اسلام کی اشاعت میں چشتی صوفیاء کا کردار فیصلہ کن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی تعلیمات محبت، صبر، خدمت اور انسان دوستی کا ابدی پیغام ہیں، انہوں نے سالک کی سات منازل میں توبہ کو اولین اور بنیادی منزل قرار دیا۔
پروفیسر سلطان منیر نےکہا کہ اللہ نے خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کو نہ صرف "نظامِ دین" بلکہ "نظامِ تکوین" کا بھی حصہ بنایا۔
انہوں نے انسان کی روحانی تربیت میں چار اہم عناصر پر سیر حاصل گفتگو کی۔
انہوں نے شاہ محدث دہلوی کے حوالے سے بتایا کہ خواجہ صاحب جود و سخا کے پیکر تھے، یہاں تک کہ تمام لنگر تقسیم ہونے کے بعد ہی آرام فرماتے تھے۔
ڈاکٹر مظہر حسین بھدرو نے خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی سوانح حیات کےپوشیدہ گوشوں پر روشنی ڈالی اور حضرت شاہ رکن الدین عالمؒ سے خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی روحانی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے باہمی تعلق کا گہرا روحانی پس منظر بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملاقاتیں ظاہری نہیں بلکہ باطنی و روحانی قربت کا مظہر تھیں، جو دونوں بزرگوں کی عظمت اور مقام کی دلیل ہیں۔
انہوں نے خواجہ صاحب کی وصیت کہ "میرا جنازہ شاہ رکن الدین عالمؒ پڑھائیں" کا روحانی پہلو بھی بیان کیا۔