ملک کوانتشارکیطرف لےجا رہےہیں،مجبور نہ کیاجائے کہ حالات خرابی کیطرف جائیں؛مولانافضل الرحمان

May 11, 2026 | 21:34:PM
ملک کوانتشارکیطرف لےجا رہےہیں،مجبور نہ کیاجائے کہ حالات خرابی کیطرف جائیں؛مولانافضل الرحمان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مجبور نہ کیا جائے کہ حالات خرابی کی طرف جائیں،اعتماد جو ٹوٹ چکا ہے اس کو بحال کرنے کے بجائے مزید توڑ رہے ہیں تو ملک کو انتشار کی طرف لے جا رہے ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہناتھاکہ ہماری تقریر براہِ راست عوام کو نہیں دکھائی جاتی ایسے ماحول میں گفتگو کر رہے ہیں جیسے خون کی جھیل میں کھڑے ہو کر خطاب کر رہاہے ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ مولانا شیخ ادریس شہید ہو گئے جبکہ مولانا حسن جان، جو اس اسمبلی کے رکن بھی رہے، دہشتگردی کا نشانہ بنے،ہمارےکئی اکابر علماء، جو میرے استاد کا درجہ رکھتے تھے، دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں،باجوڑ میں ہم نے 80 جنازے اٹھائے جبکہ گزشتہ 15 سے 20 برس سے مختلف ناموں سے آپریشنز جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا جس کا پاکستان نے دفاع کیا اور پاکستان نے بہتر دفاعی پوزیشن دکھائی،جنگ کے آغاز پر وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اسے بھارت اور پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا، بعد ازاں مودی کی درخواست پر امریکہ نے مداخلت کی اور پھر کہا گیا کہ جنگ بند کرائی گئی،پھر ہم نے کہا ٹرمپ صاحب کو نوبل انعام ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے ، معاشی ماہر کہاں ہیں،ایران اور افغانستان متاثر نہیں ہوئے لیکن پاکستان میں عوام پر قیامت برپا کر دی گئی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے تجویز دی تھی کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے لیکن اگر پارلیمنٹ واقعی عوام کی نمائندہ ہے تو حکومت اس تجویز سے کیوں گریز کر رہی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آزاد ملک میں آزادی سے بات بھی نہیں کی جا سکتی،ان کے مطابق قانون سازی کا مذاق بنا دیا گیا ہے اور آج پاکستان میں حکومت بے بس جبکہ اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہے۔

انہوں نے حکومتی بنچوں پر موجود پیپلز پارٹی اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم ان کی موجودگی میں منظور ہوئی تھی اور صوبوں کو اختیارات بھی اسی دوران دیے گئے  مگر اب پارلیمنٹ ایک ربڑ اسٹیمپ ادارہ بنتی جا رہی ہے اور آئین غیر محفوظ ہو چکا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر وہ غم کے اندھیروں اور خون کی جھیل میں کھڑے ہیں تو ایسے ماحول میں جشن نہیں منا سکتے، انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، حکومتی رٹ کمزور ہو چکی ہے اور نہ سپاہی محفوظ ہے نہ شہری، صوبے میں جوانوں کو اغوا کر کے شہید کیا جا رہا ہے اور انسانی جان بہت سستی ہو چکی ہے، نہ عوام کو معیشت دی جا رہی ہے اور نہ تحفظ۔

انہوں نے سوال کیا کہ دنیا واقعی جمہوریت کے لیے کتنی سنجیدہ ہے، کیونکہ امریکہ سے لے کر یورپ اور پاکستان تک جمہوریت کے معاملے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔

مولانا فضل الرحمان نے شعر پڑھتے ہوئے کہا "بھروسہ تو نے توڑا تھا، مگر خود کو وہ سزا یوں دی،کہ جو مل گیا اس پر بھروسہ کر لیا میں نے"

انہوں نے کہا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے جبکہ سودی نظام کے خاتمے کے حوالے سے بھی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ،مدرسہ واحد ادارہ ہے جس پر حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے لیکن ان شاء اللہ ایسا نہیں ہو سکے گا۔

انہوں نے ڈی جی آر ای کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبائی حکومتیں مدارس کو ڈی جی آر ای سے رجسٹر ہونے کا حکم دے رہی ہیں تاکہ وہ چندہ اور کھالیں جمع کر سکیں،ڈپٹی کمشنر کو ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار کس نے دیا۔

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کو مزید نقصان پہنچایا جا رہا ہے،انہوں نے شکوہ کیا کہ ان کے لوگوں کی شہادتوں پر نہ حکومت اور نہ اسٹیبلشمنٹ نے افسوس کا اظہار کیا حالانکہ وہ خود فوجی جوانوں کی شہادت پر افسوس میں شریک ہوتے ہیں،اس طرح تو دوستی نہیں چلتی،حکومت کی خواہش ہوتی ہے مشکلات کم ہوں لیکن یہاں ہمیں اپوزیشن کو دباؤ میں لا رہی ہے،حالات مزید خراب ہوئے ہیں،اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ واک آؤٹ کا اعلان کریں۔ 

یہ بھی پڑھیں :  کے پی کے میں بدامنی ،مولانا فضل الرحمان نے تحریک التواء قومی اسمبلی میں جمع کروادی