جب سپریم کورٹ بیٹھ جائے تو پھر وہ مکمل انصاف کا اختیار بھی استعمال کرسکتی ہے: جسٹس جمال مندوخیل

Mar 11, 2025 | 14:25:PM
جب سپریم کورٹ بیٹھ جائے تو پھر وہ مکمل انصاف کا اختیار بھی استعمال کرسکتی ہے: جسٹس جمال مندوخیل
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ جب سپریم کورٹ بیٹھ جائے تو پھر وہ مکمل انصاف کا اختیار بھی استعمال کرسکتی ہے۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی، وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ سلمان اکرم راجہ اور اور عزیر بھنڈاری نے اپنے دلائل میں ایف بی علی کیس پر بات کی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ایف بی علی کیس کا وہ متعلقہ پیراگراف آپ کے سامنے رکھتا ہوں، ایف بی علی کیس کو جس طرح سےدوسری طرف نے اپنے دلائل میں بیان کیا وہ کیا ہی نہیں جاسکتا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کسی پارٹی کے دلائل پر انحصار لازمی نہیں ہوتا، ایف بی علی کیس میں کہا کہ آرمڈ فورسز کے ممبران پر بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے،انہوں نے کہا کہ ایف بی علی کیس کلاز ڈی کی بات کرتا ہے کہ اس کے تحت شہریوں کو بنیادی حقوق حاصل ہوں گے، پھر ایف بی علی کیس کے تناظر میں کلاز ڈی کے ہوتے شہریوں کو فوجی عدالتوں میں کیسے ٹرائل کیا جاسکتا ہے؟ یہی سوال ہے جو میرے دماغ میں اٹکا ہوا ہے۔

بعدازاں ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کل 11:30بجے تک ملتوی کردی گئی۔