نورِ سحر  میں " سورت القمر کے تفسیری معارف"روح پرور اور علمی نشست 

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نےواقعۂ شقِ قمر کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کیریلا کے راجہ بھوجپال سے منسوب روایات کا ذکر کیا، جن میں ان کے اسلام قبول کرنے اور تحائف کے ساتھ شہزادہ حجاز بھیجنے کے بیانات شامل ہیں

Dec 11, 2025 | 10:58:AM
 نورِ سحر  میں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع" سورت القمر کے تفسیری معارف"تھا۔

پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نےواقعۂ شقِ قمر کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کیریلا کے راجہ بھوجپال سے منسوب روایات کا ذکر کیا، جن میں ان کے اسلام قبول کرنے اور تحائف کے ساتھ شہزادہ حجاز بھیجنے کے بیانات شامل ہیں،انہوں نے ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کو ریاست کی اولین ذمہ داری قرار دیا۔

پروفیسر عائشہ ابوبکر نے کہا کہ سورۃ القمر بنیادی عقائد  توحید، رسالت اور قیامت   کے اثبات پر مشتمل ہے، اور اس کی تلاوت کو نور، حفاظت اور درجات کی بلندی کا باعث قرار دینے والی روایات پیش کیں۔

انہوں نے کنز العمال کی روایت بھی بیان کی، جس کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"جو شخص رات کے وقت سورۃ السجدہ، سورۃ القمر اور سورۃ الملک کی تلاوت کرے، یہ سورتیں اسے شیطان اور شرک سے محفوظ رکھتی ہیں اور قیامت کے دن اس کے درجات بلند کیے جائیں گے۔

میاں مستفیض احمد نقشبندی نے سورۃ القمر کے ادبی و صوتی اعجاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی آیات کا حرف “ر” پر ختم ہونا ایک خاص ہیبت اور تاثیر پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سورت میں پانچ بڑی قوموں قومِ نوح، عاد، ثمود، قومِ لوط اور قومِ فرعون کے انجام کو انتہائی جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ قرآنِ مجید کی سورۃ القمر نہایت عظیم مفہوم رکھتی ہے اور اس میں توحید و رسالت کے بڑے دلائل موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سورۃ القمر سے قبل سورۃ الدخان اور بعد میں سورۃ الرحمٰن ہے جو ایک مضبوط تسلسل پیش کرتی ہیں۔

انہوں نے  بعض لوگوں کے جعلی خوابوں اور  جھوٹی کرامات  پر بھی سخت تنقید کی گئی اورکہا  کہ آج بعض لوگ اپنی جھوٹی کرامتیں مشہوری کے لیے بیان کرواتے ہیں، جو دین کے نام پر دھوکہ ہے۔