سارو گنگولی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

Aug 11, 2026 | 10:32:AM
سارو گنگولی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

   (24 نیوز)بھارتی  ٹیم کے سابق کپتان اور بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ  کے سابق صدر سارو گنگولی اور ان کی اہلیہ ڈونا گنگولی کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد کولکتہ پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرادی گئی۔

 گنگولی خاندان کو گزشتہ کئی ماہ سے نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکی آمیز اور قابلِ اعتراض خطوط موصول ہو رہے تھے، تاہم ابتدا میں انہیں کسی شخص کی ذاتی ناراضی یا مداح کی حد سے بڑھی ہوئی جذباتی کیفیت قرار دے کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔

حالیہ دنوں میں موصول ہونے والے دو خطوط میں سارو گنگولی اور ان کی اہلیہ ڈونا گنگولی کے خلاف نہ صرف توہین آمیز زبان استعمال کی گئی بلکہ انہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر گنگولی کے ذاتی معاون اور خاندان کی جانب سے کولکتہ کے تھاکرپکور پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائی گئی جبکہ ریاستی حکومت کے سکیورٹی محکمے کو بھی صورتحال سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

شکایت میں پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دھمکی آمیز خطوط بھیجنے والے شخص کی شناخت کرکے اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور سارو گنگولی، ڈونا گنگولی سمیت ان کے عملے کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مزید پڑھیں:ICC پلیئر آف دی منتھ کے امیدواروں کا اعلان

ابتدائی پولیس تحقیقات کے مطابق یہ خطوط کورئیر کے ذریعے گنگولی کی رہائش گاہ پر بھیجے گئے۔ پیکٹ پر بھیجنے والے کا نام ’ارون کمار‘ درج تھا، جسے بیلگھریا کا رہائشی بتایا گیا ہے۔

تفتیش کاروں نے خط میں درج فون نمبر کا بھی سراغ لگایا، جو ’Truecaller‘ پر بھی ارون کمار کے نام سے ظاہر ہوا۔

 تاہم پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا خطوط واقعی اسی شخص نے بھیجے یا کسی اور نے اس کی شناخت استعمال کرتے ہوئے گنگولی خاندان کو دھمکیاں دیں۔

پولیس حکام نے گنگولی کے ذاتی معاون کو یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہیں اور سابق بھارتی کپتان اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

سارو گنگولی کی اہم عوامی حیثیت کے باعث ریاستی سکیورٹی محکمہ بھی دھمکی کا جائزہ لے رہا ہے اور اس بات پر غور کیا جارہا ہے کہ آیا انہیں اضافی سکیورٹی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔