چین میں جرمن گاڑیوں کی مقبولیت کم ہونے لگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) چین کی آٹو مارکیٹ میں جرمن کار ساز کمپنیوں کی کئی دہائیوں پر محیط بالادستی کو سخت چیلنج کا سامنا ہے، جہاں مقامی الیکٹرک گاڑیوں کے برانڈز کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت کے باعث مرسڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور فولکس ویگن جیسی معروف جرمن کمپنیاں پیچھے ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق جرمن کار کمپنیوں نے طویل عرصے تک اپنی جرمن انجینئرنگ، معیار اور لگژری امیج کی بنیاد پر چینی صارفین میں مضبوط مقام برقرار رکھا، تاہم چین کی آٹو مارکیٹ میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں نے ان برانڈز کے لیے صورتحال مشکل بنا دی ہے۔
مرسڈیز بینز نے گزشتہ برس اپنی نئی الیکٹرک گاڑی کی تشہیر کے لیے ایک غیر معمولی مارکیٹنگ مہم کا سہارا لیا۔ کمپنی نے فاسٹ فوڈ چین میک ڈونلڈز کے ساتھ مل کر ’’So Mc-Benz‘‘ کے نام سے مہم چلائی، جس کا مقصد نوجوان چینی صارفین کی توجہ حاصل کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:52 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ! 60 لاکھ مسافر متاثر، فضائی بحران سنگین ہوگیا
مہم کے دوران مرسڈیز کی روایتی تین کونوں والے ستارے کی علامت کی جگہ برگر کی علامت کو نمایاں کیا گیا تاکہ نئی الیکٹرک CLA گاڑی کو چین کے نوجوان اور جدید طرز زندگی رکھنے والے صارفین کے لیے زیادہ پرکشش بنایا جاسکے۔
تاہم مارکیٹنگ کے ان منفرد طریقوں کے باوجود چین میں جرمن کار کمپنیوں کو اپنی فروخت میں کمی کے مسئلے کا سامنا ہے۔
چین کی گاڑیوں کی مارکیٹ گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے تبدیل ہوئی ہے، جہاں الیکٹرک اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی چینی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی، مسابقتی قیمتوں اور تیز رفتار ماڈل اپ ڈیٹس کے ذریعے عالمی برانڈز کے لیے سخت مقابلہ پیدا کررہی ہیں۔
اس تبدیلی کا سب سے بڑا اثر روایتی جرمن کار ساز کمپنیوں پر پڑا ہے، جو طویل عرصے تک چین میں پریمیم گاڑیوں کی مارکیٹ میں مضبوط مقام رکھتی تھیں۔
مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو اور فولکس ویگن نے چینی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں سمیت نئے ماڈلز متعارف کرائے ہیں، تاہم ان نئی گاڑیوں کی فروخت توقعات کے مطابق رفتار حاصل نہیں کرسکی۔
چینی صارفین کی ترجیحات بھی تبدیل ہورہی ہیں۔ جدید انفوٹینمنٹ سسٹمز، مصنوعی ذہانت، تیز رفتار سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور الیکٹرک گاڑیوں میں نئی ٹیکنالوجی اب گاڑی خریدنے کے اہم عوامل میں شامل ہوگئے ہیں، جس سے روایتی لگژری برانڈز کے لیے مقابلہ مزید سخت ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں!پریشان کن خبر سامنے آ گئی
چین دنیا کی سب سے بڑی کار مارکیٹ ہے، اس لیے یہاں فروخت میں کمزوری جرمن کمپنیوں کے عالمی کاروبار پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جرمن کار ساز کمپنیوں کو چینی صارفین کی تیزی سے بدلتی ترجیحات کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی، بصورت دیگر مقامی الیکٹرک گاڑیوں کے برانڈز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث ان کی مارکیٹ میں موجودگی مزید کم ہوسکتی ہے۔
چین کی آٹو مارکیٹ میں جاری یہ تبدیلی عالمی کار صنعت کے لیے بھی اہم اشارہ ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں صرف روایتی برانڈ ویلیو اور ماضی کی شہرت برقرار رکھنا کافی نہیں رہا۔