ایران، امریکا کشیدگی: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

Aug 11, 2026 | 08:16:AM
ایران، امریکا کشیدگی: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں منگل کو ایک ہفتے سے زائد کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہیں، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے کسی معاہدے کی امیدیں اس وقت کمزور پڑ گئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل 1.90 فیصد اضافے کے ساتھ 89.39 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا،اماراتی مربن خام تیل 4.65 فیصد اضافے سے 84.90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا،امریکی خام تیل کی 2.06 فیصد اضافے کے ساتھ 83.82 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔

دونوں اہم بینچ مارکس میں پیر کو 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا اور قیمتیں 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، یہ اضافہ اس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ ممکنہ امن معاہدے کی شرائط کے جواب میں اپنے مطالبات پیش کیے، جن میں جنگوں، حملوں اور احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ایران سے معاوضے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا مطالبہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات کے باوجود حکومت کے ساتھ ڈیڈ لاک برقرار،گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال چوتھے روز میں داخل

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی نوعیت پر دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح فرق نظر آ رہا ہے،ان کے مطابق گزشتہ ہفتے پیدا ہونے والی کچھ امیدیں اب ختم ہو رہی ہیں، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بعد ازاں کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور امریکی فورسز نے اہم آبی گزرگاہ کو ایرانی بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے۔

علاقائی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے جازان ریفائنری کو دوبارہ شروع کرنے کی تاریخ بھی مؤخر کر دی ہے، 4 لاکھ بیرل یومیہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی جازان ریفائنری اب 30 اگست کو دوبارہ شروع کیے جانے کا امکان ہے، یہ فیصلہ حوثیوں کی جانب سے اتوار کو تنصیب پر دو حملوں کے دعوے کے بعد سامنے آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں توانائی کی ترسیل کو خطرات بدستور نمایاں ہیں، کسی بھی قسم کی عارضی پابندی یا مزید حملوں کے خدشے کے باعث انشورنس اخراجات میں اضافہ اور بحری جہازوں کے لیے طویل راستوں کا استعمال جاری رہ سکتا ہے، جس سے قلیل مدت میں توانائی کی عالمی سپلائی محدود رہنے کا امکان ہے۔

بارکلیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی خالص برآمدات اوسطاً 30 لاکھ بیرل یومیہ رہیں، جو اس سے پچھلے ہفتے کے 44 لاکھ بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔

دریں اثنا، عراق نے ایشیائی خریداروں کے لیے ستمبر میں باسرا میڈیم خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت میں 2.50 ڈالر فی بیرل اضافہ کرتے ہوئے اسے عمان/دبئی کی اوسط قیمت کے مقابلے میں 4 ڈالر منفی مقرر کر دیا ہے۔