معرکۂ حق میں پاکستان کی فضائیہ نے دشمن کے 8 طیارے مار گرائے:صدر مملکت آصف زرداری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی فضائیہ نے دشمن کے 8 طیارے مار گرائے۔
اسلام آباد میں معرکۂ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاک فضائیہ اور پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے بہادر سپاہیوں نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، اور فضائیہ نے دشمن کے 8 طیارے تباہ کیے۔
آصف علی زرداری کے مطابق بھارت نے پاکستان پر بلااشتعال حملہ کیا اور شہری آبادی کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا، تاہم پاک فضائیہ اور پاک فوج نے فوری اور فیصلہ کن ردعمل دیا، صدر مملکت نے مزید کہا کہ بھارت کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ہے اور مسئلہ کشمیر اب بھی حل طلب ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی غیر مشروط حمایت جاری رکھے گا، جبکہ افغانستان کے راستے پاکستان میں ہونے والی مبینہ بھارتی دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے، آصف علی زرداری نے پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 10 مئی پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے اور بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کا ردعمل ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یکم مئی 2026 کو باقاعد ہ طور پر کشیدگی کا آغاز ہوا، خطے میں ایک بڑے واقعے کے بعد پاک بھارت تعلقات میں اچانک تناؤ بڑھا،دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے،سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا، 2 مئی کو سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور محدود جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا، فضائی حدود میں نگرانی بڑھا دی گئی جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
3مئی کو فضائی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں،پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی طیاروں کو رات گئے نشانہ بنایا گیا ہے جنھوں نے سرحدی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا تھا، بھارت کی جانب سے بھی جوابی دفاعی کارروائیوں کی رپورٹس آئیں، 4 مئی کو صورتحال انتہائی کشیدہ مرحلے میں داخل ہوئی،دونوں ممالک نے فضائی اور زمینی سطح پر تیاری مزید سخت کر دی،پاکستان کے مطابق اس دوران بھارتی فضائیہ کو بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور اس دوران اس کے 8 جنگی طیاروں کو نشانہ بناکر تباہ کیا گیا تھا۔
5 مئی کو عالمی طاقتوں نے فوری مداخلت اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا، اقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا،سفارتی رابطے تیز ہوئے،6 مئی کو فائرنگ اور فضائی سرگرمیوں میں کمی کی اطلاعات سامنے آئیں، دونوں ممالک نے محتاط رویہ اختیار کرنا شروع کیا،سرحدی علاقوں میں حالات نسبتاً معمول پر آنے لگے۔
6 مئی کو فائرنگ اور فضائی سرگرمیوں میں کمی آنے لگی، دونوں ممالک نے محتاط رویہ اختیار کرنا شروع کیا،سرحدی علاقوں میں حالات نسبتاً معمول پر آنے لگے، 7 مئی کو کشیدگی بتدریج کم ہو کر سفارتی سطح پر منتقل ہو گئی،دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر پیش کیا،صورتحال مکمل جنگ کے بجائے ایک محدود فوجی بحران کے طور پر سمٹ گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر پاکستان کو جواب بھیج دیا