’’نورِ سحر ‘‘میں بصیرت افروز علمی نشست ،امانت اور دیانتداری کو موضوعِ بحث بنایا گیا
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، جنہوں نے اپنی قوموں کو امانت و دیانت کا درس دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف پروگرام "نورِ سحر" میں ایک بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں امانت اور دیانتداری کو فرد کی نیکی سے لے کر قوم کی ترقی تک موضوعِ بحث بنایا گیا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، جنہوں نے اپنی قوموں کو امانت و دیانت کا درس دیا۔
انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ دیانت کا عملی نمونہ تھی، یہاں تک کہ دشمن بھی آپ ﷺ کو "صادق و امین" کے لقب سے پکارتے تھے۔
شیخ عویمر ابراہیم میرمحمدی نے دیانت کو معاشرتی بھلائی کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیانتداری صرف ایک فرد کی ذاتی خوبی نہیں بلکہ ایک کامیاب قوم کی اجتماعی ترقی کا راز ہے،انہوں نے نشاندہی کی کہ نبی کریم ﷺ نے دیانت سے خالی معاشرے کو قیامت کی نشانیوں میں شمار فرمایا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر امجد علی جعفری نے بدن و روح کو اللہ کی امانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ دیانتداری برتنا ہر انسان پر لازم ہے۔
انہوں نے دیانت کے چار ستون،صبر، یقین، عدالت اور جہادکا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہی بنیادوں پر ایک صالح معاشرہ تعمیر ہوتا ہے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا محور بھی عدل و دیانت پر قائم ہوگا۔
پروفیسر شجاعت علی خان نے دیانت کو ایمان کا "سافٹ ویئر" قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب انسان ہر مصیبت کا الزام دوسروں پر ڈالنے لگے، تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی علامت ہے، نبی کریم ﷺ نے اس طرزِ عمل کو خود پر نافذ کر کے دکھایا اور امت کو سکھایا کہ مشکلات کا سامنا خود کرنا ہی اصل ایمان ہے۔
مفتی ذیشان احمد حسان نے حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "دین، لوگوں کے ساتھ دیانتداری ہے"۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ دہی میں مبتلا ہیں، جو دیانت اور ایمان کی روح کے منافی ہے۔