ملک بھر میں خواتین ڈاکٹرز کو پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے دوران مسلسل غیر محفوظ ماحول کا سامنا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد ترک)اسلام آباد: ملک بھر میں خواتین ڈاکٹرز کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران درپیش سکیورٹی اور تحفظ کے مسائل ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں،کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے اور رواں سال کوہاٹ میں ایک خاتون ڈاکٹر کے قتل کے بعد پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کی ایک سینئر خاتون ڈاکٹر کی جانب سے ہراسگی اور دھمکیوں کی شکایت سامنے آئی ہے۔
24 نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق پمز کی ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر زوفشاں جبین فاطمہ نےہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 8 جون کو ان کے دفتر میں ایک ملازم قمر گجر نے انہیں ہراساں کیا، دھمکیاں دیں اور جارحانہ رویہ اختیار کیا۔
تحریری شکایت کے مطابق واقعہ دوپہر تقریباً ایک بج کر 45 منٹ پر پیش آیا، جب قمر گجر اپنے ایک ساتھی ساجد غفور کے ہمراہ بغیر پیشگی اجازت یا ملاقات کے وقت کے ڈاکٹر زوفشاں کے دفتر میں داخل ہوا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ دفتر میں داخل ہوتے ہی مذکورہ شخص نے ایک سابق معاملے پر انتہائی جارحانہ انداز میں بحث شروع کر دی اور تقریباً ایک گھنٹے تک بلند آواز میں جھگڑا، چیخ و پکار اور مبینہ طور پر دھمکی آمیز گفتگو کرتا رہا۔
ڈاکٹر زوفشاں کے مطابق مذکورہ شخص کا رویہ غیر پیشہ ورانہ، خوفزدہ کرنے والا اور ان کی سرکاری حیثیت اور ذاتی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے مترادف تھا۔ انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ دفتر کے باہر موجود عملے نے شور شرابہ سن کر مداخلت کی اور مذکورہ شخص کو دفتر سے باہر نکالا، تاہم وہ راہداری میں بھی مبینہ طور پر بدزبانی اور دھمکی آمیز گفتگو کرتا رہا۔
شکایت میں ڈاکٹر زوفشاں نے اس واقعے کو دفتری ہراسگی اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملہ فوری طور پر ہراسگی کمیٹی کے سپرد کیا جائے، باقاعدہ انکوائری شروع کی جائے اور قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے تحقیقات مکمل ہونے تک اپنی سلامتی کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کی درخواست بھی کی ہے۔
دوسری جانب پمز انتظامیہ نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کا ادارہ جاتی قواعد و ضوابط کے مطابق جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم خبر فائل کیے جانے تک قمر گجر سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا، اس لیے ان کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں خواتین ڈاکٹروں اور طبی عملے کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ چند روز قبل کوئٹہ کے سینڈمین صوبائی اسپتال میں جنرل سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر مبینہ طور پر ایک کنٹریکٹ لفٹ آپریٹر نے تیزاب پھینک دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ جھلس گئیں اور اس وقت کراچی میں زیر علاج ہیں۔
اس سے قبل رواں سال کوہاٹ میں بھی ایک خاتون ڈاکٹر کے قتل کے واقعے نے طبی برادری کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس کے بعد ڈاکٹروں کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے صحت کے اداروں میں سکیورٹی اور خواتین کے لیے محفوظ کام کے ماحول سے متعلق سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ہراسگی، دھونس، دھمکیوں اور بعض اوقات جسمانی تشدد کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں، جبکہ متعدد متاثرین پیشہ ورانہ یا سماجی دباؤ کے باعث شکایات درج کرانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پمز میں پیش آنے والے اس واقعے سمیت تمام شکایات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور خواتین ڈاکٹروں سمیت تمام طبی عملے کے لیے محفوظ اور باوقار کام کا ماحول یقینی بنایا جائے۔