مسئلہ کشمیر ہو یا دہشتگردی کا مسئلہ ہو ،جنگ ان مسائل کا حل نہیں ہے، بلاول بھٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(روزینہ علی) چیئرمین پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہو یا دہشتگردی کا مسئلہ ہو جنگ ان مسائل کا حل نہیں ہے۔
برطانیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے پاکستان سفارتی مشن کے قائد بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل صرف بات چیت سے ممکن ہے،اس ہی پیغام کے ساتھ کہ پاکستان پہلے بھی امن چاہتا تھا پاکستان اب بھی امن چاہتا ہے
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد ہم برطانیہ پہنچے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کا مؤقف مضبوط ہو اور آپ سچ کے ساتھ کھڑے ہوں تو آسان ہوجاتا ہے اپنا پیغام دنیا تک پہنچانا،بھارت کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے،اس لیے انہیں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عالمی برادری چاہے وہ امریکہ ہو یا برطانیہ وہ اپنا کردار ادا کریں گے ،بھارت کو قائل کریں گے کہ بات چیت کے ذریعے پاکستان اور بھارت اپنے مسائل کو حل کریں۔
دوسری جانب پاکستانی پارلیمانی وفد کا چیٹم ہاؤس میں برطانیہ کے تھنک ٹینک، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کے ساتھ اہم مکالمہ ہوا،یہ مکالمہ چیٹم ہاؤس رولز کے تحت بند کمرے میں منعقد ہواتاکہ کھلے اور باہمی احترام پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا سکے،وفد میں شیری رحمان، حنا ربانی کھر، خرم دستگیر، فیصل سبزواری، بشریٰ انجم بٹ، جلیل عباس جیلانی اور تہمینہ جنجوعہ شامل تھیں،اس موقع پر برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود تھے۔
بلاول بھٹو زرداری نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا،وفد نے بھارت کی بلااشتعال جارحیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا،بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی کارروائیوں کو پاکستان کی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
پاکستانی وفد نے مؤثر انداز میں بھارتی جارحیت کا جواب دینے پر مسلح افواج کے کردار کو سراہا،بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر شدید مذمت کی گئی،پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو عالمی اصولوں کی خلاف ورزی اور خطرناک نظیر قرار دیا گیا۔
عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ بھارت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے،جموں و کشمیر کے مسئلے کو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا،عالمی برادری سے بامعنی مذاکرات اور انسانی حقوق کے احترام کی اپیل کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت کاہندوتوا نظریہ پورے خطے کیلئے خطرہ ہے :صدر زرداری